نبی مومنوں کے ان کی جان سے بھی زیادہ مالک ہیں او رنبی کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔(پ21،الاحزاب:6)
جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہماری جان سے بھی زیادہ ہمارے مالک ہوئے تو ہماری اولاد مال کے بدرجہ اولی مالک ہیں۔
(۶) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾
اے ایمان والو! اپنی آوازیں ان نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو نہ ان کی بارگاہ میں ایسے چیخ کر بو لو جیسے بعض بعض کیلئے خطرہ ہے کہ تمہارے اعمال بر باد ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔(پ۲۶،الحجرات:۲)
پتا چلا کہ ان کی تھوڑی سی بے ادبی کرنے سے نیکیاں بر باد ہوجاتی ہیں اور اعمال کی بر بادی کفر وار تداد سے ہوتی ہے معلوم ہوا کہ ان کی ادنیٰ گستاخی کفر ہے ۔