| علمُ القرآن |
اس قسم کی بہت آیات ملیں گی۔
عقل کے خلاف اس لئے ہے کہ دنیا ودین کا قیام ایک دو سرے کی مدد پرہی ہے ، اگرامداد باہمی بند ہوجائے تو نہ دنیاآباد رہے نہ دین ۔ پھر ایسی ضروری چیز کو رب شرک کیسے فرماسکتاہے ۔ آؤ اب اس ممانعت کی تفسیر قرآن کریم سے پوچھیں،جب قرآن کریم کی تحقیق کی تو پتالگا کہ کسی کو ولی ماننا چار طر ح کا ہے جن میں سے تین قسم کا ولی ماننا تو کفر وشر ک ہے او رچوتھی قسم کا ولی ماننا عین ایمان ہے ۔
(۱)رب تعالیٰ کو کمزور جان کر کسی او رکو مدد گار ماننا یعنی رب ہماری مدد نہیں کرسکتا ہے لہٰذا فلاں مدد گار ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪
اور نہیں ہے اللہ کا کوئی ولی کمزوری کی بنا پر اور اس کی بڑائی بولو۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:111) (۲) خدا کے مقابل کسی کو مدد گار جاننا یعنی رب تعالیٰ عذاب دینا چاہے او ر ولی بچالے ۔ فرماتا ہے :
اُولٰٓئِکَ لَمْ یَکُوۡنُوۡا مُعْجِزِیۡنَ فِی الۡاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ۘ
یہ کفار خدا کو عاجز نہیں کرسکتے زمین میں اور نہ کوئی خدا کے مقابل ان کاولی مدد گار ہے ۔(پ12،ہود:20) رب تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۴۵﴾
خبردار ! کفار ہمیشہ کے عذاب میں ہیں۔(پ25،الشورٰی:45) رب تعالیٰ فرماتا ہے ۔