Brailvi Books

علمُ القرآن
26 - 244
مقدمہ
    ترجمہ قرآن سے پہلے اس قاعدے کو یاد رکھنا ضروری ہے ۔

    آیات قرآنیہ تین طر ح کی ہیں بعض وہ جن کا مطلب عقل وفہم سے وراہے جس تک دماغوں کی رسائی نہیں انہیں ''متشابہات''کہتے ہیں۔ا ن میں سے بعض تو وہ ہیں جن کے معنی ہی سمجھ میں نہیں آتے جیسے المۤ،حٰمۤ،الرٰ،وغیرہ انہیں ''مقطعات'' کہا جاتاہے۔ بعض وہ آیا ت ہیں جن کے معنی تو سمجھ میں آتے ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا مطلب کیا ہے کیونکہ ظاہری معنی بنتے نہیں جیسے
فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ ؕ
تم جد ھر منہ کر و ادھر اللہ کا وجہ (منہ) ہے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۱۵)
یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیۡدِیۡہِمْ ۚ
اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے ۔ (پ۲۶،الفتح:۱۰)
ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ۟
پھر رب نے عرش پر استوا فرمایا۔(پ۸،الاعراف:۵۴) 

    ''وجہ'' کے معنی چہر ہ ۔''ید'' کے معنی ہاتھ ۔ ''استوا ''کے معنی برابر ہونا ہے مگر یہ چیز یں رب کی شان کے لائق نہیں ؛لہٰذا متشابہات میں سے ہیں اس قسم کی آیتوں پر ایمان لانا ضروری ہے مطلب بیان کرنا درست نہیں اور دو سری قسم کی آیات کو ''آیات صفات ''کہتے ہیں ۔

    بعض آیات وہ ہیں جو اس درجہ کی مخفی نہیں۔انہیں قرآنی اصطلاح میں ''محکمات ''کہتے ہیں ۔ قرآن کریم فرماتا ہے :
Flag Counter