Brailvi Books

علمُ القرآن
227 - 244
(1) الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ
وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن ) شک کی جگہ نہیں اس میں۔(پ1،البقرۃ:1۔2)

    اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایاکہ قرآن میں کوئی شک وتردد نہیں۔ شک کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو بھیجنے والا غلطی کرے یا لانے والا غلطی کرے یا جس کے پاس آیا ہو وہ غلطی کرے یا جنہوں نے اس سے سن کر لوگو ں کو پہنچا یاانہوں نے دیانت سے کام نہ لیا ہو۔ اگر ان چاروں درجوں میں کلام محفوظ ہے تو واقعی شک وشبہ کے لائق نہیں۔قرآن شریف کا بھیجنے والا اللہ تعالیٰ،لانے والے حضرت جبریل علیہ السلام ،لینے والے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضور سے لے کر ہم تک پہنچا نے والے صحابہ کرام ہیں ( رضی اللہ عنہم اجمعین) اگر قرآن شریف اللہ تعالیٰ ، جبریل علیہ السلام ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک تو محفو ظ رہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سچے نہ ہوں او ران کے ذریعہ قرآن ہم کو پہنچے تو یقینا قرآن میں شک پیدا ہوگیا کیونکہ فاسق کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں ہوتی ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا
اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لاوے تو تحقیق کرلیا کرو۔(پ26،الحجرات:6)

     اب قرآن کا بھی اعتبار نہ رہے گا قرآن پر یقین جب ہی ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام کے تقویٰ ودیانت پر یقین ہو۔
(2) ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ
قرآن ہدایت ہے ان متقیوں کو جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔(پ1،البقرۃ:2۔3)

    یعنی اے کافر و!جن پر ہیز گارو ں یعنی جماعت صحابہ کو تم دیکھ رہے ہو انہیں
Flag Counter