Brailvi Books

علمُ القرآن
199 - 244
ہوئیں۔سارے کافروں کوہلاک کردے کہ اب ان کی اولاد بھی کافر ہی ہوگی۔ میری اور میرے ماں باپ کی مغفرت کر اور جو میرے گھر میں پناہ لے لے اسے بھی بخش دے۔ ان دعاؤں کو رب تعالیٰ نے حرف بحرف قبول فرمایا ۔سارے عالم کے کافر غرق کردیے گئے ۔آپ کے ماں باپ کی مغفرت کی گئی اور جس نے کشتی میں پناہ لی اسے بچالیاگیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ نے نبوت کی عینک سے ان کی ہونے والی اولاد تک کا حال معلوم کرلیاکہ وہ کافر ہی ہوگی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ان حضرات کی زبانیں ''کن'' کی کنجی ہیں۔

    یہ بھی خیال رہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جو دعاارادہ الٰہی کے خلاف ہوتی ہے اس سے انہیں روک دیا جاتاہے تا کہ ان کی زبان خالی نہ جاوے اور یہ انتہائی عظمت ہوتی ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(1) یٰۤـاِبْرٰہِیۡمُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا ۚ اِنَّہٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّکَ ۚ وَ اِنَّہُمْ اٰتِیۡہِمْ عَذَابٌ غَیۡرُ مَرْدُوۡدٍ ﴿۷۶﴾
اے ابراہیم اس دعا سے اعراض کرو قوم لوط پر عذاب آنے والا ہے نہیں لوٹ سکتا ۔(پ12،ھود:76)
(2) وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ
آپ منافقین میں سے کسی پر جو مرجائے نماز نہ پڑھیں اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوں۔(پ10،التوبۃ:84)

    ابراہیم علیہ السلام نے قوم لوط کے لئے دعا فرمائی لیکن چونکہ ان کی نجات ارادہ الٰہی کے خلاف تھی لہٰذا انہیں اس سے روک دیا گیا ۔ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو
Flag Counter