Brailvi Books

علمُ القرآن
198 - 244
تک کوئی قحط سے نہیں مرا مسلمانوں کے دل مکہ شریف کی طر ف کیسے مائل ہیں وہ دن رات دیکھنے میں آرہا ہے کہ فاسق وفاجر بھی مکہ پر فدا ہیں۔
    نوٹ ضروری : حضرت ابراہیم علیہ السلام کے منہ سے نکل گیا کہ
بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ
بے کھیتی والاجنگل تا ثیر تو دیکھو کہ اب تک وہ جگہ ریتلی ہی ہے کہ وہاں کھیتی ہوسکتی ہی نہیں۔ یہ ان کی زبان کی تاثیر ہے ۔ اور کیوں نہ ہو رب تعالیٰ نے فرمایا: اپنالڑکا ذبح کردو ۔عرض کیا: بہت اچھا۔ فرمایا: اپنے کو نمرو د کی آگ میں ڈال دو۔ عرض کیا: بہت اچھا۔ فرمایا: اپنے بچے بیوی کو ویران جنگل میں بے آب ودانہ چھوڑ آؤ ۔ عرض کیا: بہت اچھا۔ یہ نہ پوچھا کہ کیوں ؟ جب وہ رب تعالیٰ کی اتنی مانتے ہیں تو رب تعالیٰ بھی ان کی مانتا ہے ۔خلیل نے کہاجلیل نے مانا غرضکہ انکی زبان کن کی کنجی ہے ۔
 (1) وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾اِنَّکَ اِنۡ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا ﴿۲۷﴾رَبِّ اغْفِرْ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿٪۲۸﴾
اور نوح نے عرض کیا کہ اے رب میرے زمین پر کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ،بے شک اگر تو انہیں چھوڑ ے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور نہ جنیں گے مگر بدکار ناشکرکو۔اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا (پ29،نوح:26۔28) مگر تباہی

    سورہ نوح کی ان آخری تین آیتوں میں نوح علیہ السلام کی تین دعائیں ذکر
Flag Counter