Brailvi Books

علمُ القرآن
186 - 244
(5) فَقَالُوۡۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ ﴿ۚ۴۷﴾
فرعونی بولے کیا ہم ایمان لائیں اپنے جیسے دو آدمیوں پر اور ان کی قوم ہماری بندگی کر رہی ہے ۔

    ان جیسی تمام آیتو ں میں فرمایا گیا کہ پیغمبر کو بشر کہنا اولاً شیطان کا کام تھا پھر ہمیشہ کفار نے کہا مومنوں نے یہ کبھی نہ کہا اور ان کفار کے کفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ انبیاء علیہم السلام سے برابری کے دعویدار ہوکر انہیں اپنی طر ح بشر کہتے تھے ۔

    نوٹ ضروری: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا بارہا اپنی بندگی اور بشریت کا اعلان کرنا اس لئے تھا کہ عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام میں دو معجزے دیکھ کر انہیں خدا کا بیٹا کہہ دیا ، ایک توان کا بغیر باپ پیدا ہونا اور دوسرے مردے زندہ کرنا مسلمانوں نے صدہا معجزے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھے ، چاند پھٹتا ہوا ۔ سورج لوٹتا ہوا دیکھا کنکر کلمہ پڑھتے دیکھے انگلیوں سے پانی کے چشمے بہتے دیکھے۔ اندیشہ تھا کہ وہ بھی حضور کو خدا یا خدا کا بیٹا کہہ دیں ۔ اس احتیاط کے لئے بار بار اپنی بشریت کا اعلان فرمایا۔(پ18،المؤمنون:47)
تیسرا با ب 

مسائل قرآنیہ
    اس باب میں ان ضروری مسائل کا ذکر ہوگا جس کا بعض لوگ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ قرآن شریف سے صراحۃً ثابت ہے اور ان کے ثبوت میں صرف قرآنی آیات ہی پیش کی جاویں گی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل قبول فرمائے ۔
Flag Counter