| علمُ القرآن |
اس اللہ کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے ۔(پ18،النور:35)
ان آیتو ں میں تمام جانوروں کو انسانوں کی مثل فرمایا گیا حالانکہ انسا ن اشرف المخلوقات ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو طاق اور چراغ سے مثال دی گئی ۔ حالانکہ کہاں طا ق اور چراغ اور کہاں رب کا نورجیسے ان دونوں آیتوں کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتاکہ ہم جانوروں کی طرح یارب کانور طاق اور چراغ کی طر ح ۔اسی طرح نہیں کہا جاسکتاکہ ہم نبی کے برابریاان کی طر ح ہیں۔ یہ تمثیل فقط سمجھانے کیلئے ہے۔
''ب'' کی مثال یہ ہے :(1) فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا ۫ فَکَفَرُوۡا وَ تَوَلَّوۡا وَّ اسْتَغْنَی اللہُ
پس کافر بولے کیا بشر ہمیں ہدایت کریگا لہٰذا وہ کافر ہوگئے پھر وہ پھر گئے اور اللہ بے پرواہ ہے ۔(پ28،التغابن:6)
(2) قَالَ لَمْ اَکُنۡ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿۳۳﴾
شیطان نے کہا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ لیسدار گارے سے تھی ۔(پ14،الحجر:33)
(3) فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ
تو جس قوم کے سرداروں نے کفر کیا وہ بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی ۔(پ18،المؤمنون:24)
(4) وَلَئِنْ اَطَعْتُمۡ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ ۙ اِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
کفار نے کہا کہ اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کروگے تو تم ضرور گھاٹے میں رہوگے ۔(پ18،المؤمنون:34)