تو ابراہیم اپنے دل میں ان فرشوں سے ڈرگئے وہ بولے آپ ڈریئے نہیں ۔(پ26،الذٰریٰت:28)
ان جیسی بہت سی وہ آیتیں جن میں مخلوق سے ڈرنے کا حکم ہے یا ان سے ڈرنے کا ثبوت ہے ا ن میں وہی خوف مراد ہے جو عرض کیا گیا یعنی تکلیف کا خوف یا فتنہ کا ڈر ۔ اس قسم کے ڈرنہ ایمان کے خلاف ہیں اور نہ ولایت اور نبوت کے منافی ۔ دیکھو موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام نبی ہیں مگر سانپ سے ، فرعون سے ، ملائکہ سے خوف فرماتے ہیں لہٰذا انبیاء اور اولیاء اللہ سے خوف کرنا کہ یہ ناراض ہوکر بد دعائیں دیں گے اور ہم کو نقصان پہنچ جائیگا ۔ ایمان کے خلاف نہیں بلکہ ایمان کو قوی کرتا ہے موسی علیہ السلام کی بد دعا سے فرعونیوں کابیڑا غرق ہوا، نوح علیہ السلام کی بد دعا سے ساری دنیا کے کافر ہلاک کردیئے گئے۔ معلوم ہوا کہ ان کی بد دعا خطر ناک ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے بغیر کسی بندے کی بد دعا کے کسی کو ہلاک نہ کیا ۔ ؎