Brailvi Books

علمُ القرآن
183 - 244
(5) قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ قَتَلْتُ مِنْہُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنۡ یَّقْتُلُوۡنِ ﴿۳۳﴾
کہا موسی علیہ السلام نے اے میرے رب میں نے ان میں ایک آدمی مارڈالاہے تو میں ڈرتاہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے ۔(پ20،القصص:33)
(6) فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفْ ؕ
تو ابراہیم اپنے دل میں ان فرشوں سے ڈرگئے وہ بولے آپ ڈریئے نہیں ۔(پ26،الذٰریٰت:28)

    ان جیسی بہت سی وہ آیتیں جن میں مخلوق سے ڈرنے کا حکم ہے یا ان سے ڈرنے کا ثبوت ہے ا ن میں وہی خوف مراد ہے جو عرض کیا گیا یعنی تکلیف کا خوف یا فتنہ کا ڈر ۔ اس قسم کے ڈرنہ ایمان کے خلاف ہیں اور نہ ولایت اور نبوت کے منافی ۔ دیکھو موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام نبی ہیں مگر سانپ سے ، فرعون سے ، ملائکہ سے خوف فرماتے ہیں لہٰذا انبیاء اور اولیاء اللہ سے خوف کرنا کہ یہ ناراض ہوکر بد دعائیں دیں گے اور ہم کو نقصان پہنچ جائیگا ۔ ایمان کے خلاف نہیں بلکہ ایمان کو قوی کرتا ہے موسی علیہ السلام کی بد دعا سے فرعونیوں کابیڑا غرق ہوا، نوح علیہ السلام کی بد دعا سے ساری دنیا کے کافر ہلاک کردیئے گئے۔ معلوم ہوا کہ ان کی بد دعا خطر ناک ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے بغیر کسی بندے کی بد دعا کے کسی کو ہلاک نہ کیا ۔ ؎
ہیچ قومے راخدا رسوا نہ کرد   تادلے صاحب دلے نامد بدرد
    قاعدہ نمبر۳۰: نبی کے ہم جیسے بشر ہونے نہ ہونے کی صورتیں اورانکی پہچان ۔حضور نے اپنی بشریت کا اعلان کیوں کیا؟
    الف : جن آیتو ں میں نبی سے کہلوایا گیا ہے کہ ہم تم جیسے بشر ہیں وہاں مطلب یہ ہے کہ خالص بندے ہونے میں تم جیسے بشر ہیں کہ جیسے تم نہ خدا ہو نہ خدا کے
Flag Counter