| علمُ القرآن |
سے نفی کی جاوے تو اس علم غیب سے ذاتی ، دائمی، جمیع علوم غیبیہ، قدیمی مراد ہوگا ۔ ب:جہاں علم غیب بندوں کے لئے ثابت کیا جاوے یا کسی نبی کا قول قرآن میں نقل کیا جاوے کہ فلاں پیغمبر نے فرمایا کہ میں غیب جانتا ہوں وہاں مجازی، حادث ، عطائی علم غیب مراد ہوگا جیسا کہ قاعدہ نمبر ۱۵ میں دیگر صفات کے بارے میں بیان کردیا گیا ۔ ''الف'' کی مثال یہ ہے :
(1) قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ
تم فرمادو کہ آسمانوں اورزمین میں غیب کوئی نہیں جانتا اللہ کے سوا۔(پ20،النمل:65)
(2) عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَا یَعْلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ
اس رب کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سواکوئی نہیں جانتا ۔(پ7،الانعام:59)
(3) اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ
قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔(پ21،لقمٰن:34)
(4) وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ
اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ۔(پ21،لقمٰن:34)
(5) وَلَوْ کُنۡتُ اَعْلَمُ الْغَیۡبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیۡرِ
اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت خیر جمع کرلیتا ۔(پ9،الاعراف:188)
ان جیسی تمام آیات میں علم غیب ذاتی یا قدیمی یا مستقل مراد ہے اس کی نفی