| علمُ القرآن |
(9) شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیۡنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنۡکُمْ
تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں سے کسی کو موت آوے وصیت کرتے وقت تو تم میں سے دو معتبر شخص ہیں۔(پ7،المآئدۃ:106)
ان جیسی تما م آیتوں میں عارضی ، غیر مستقل ، عطائی ملکیت ،گواہی ، وکالت ، حکومت، حساب لینا ، بندوں کے لئے ثابت کیا گیا ہے یعنی اللہ کے بندے مجازی طور پر حاکم ہیں، وکیل ہیں،گواہ ہیں لہٰذا آیات میں تعارض نہیں ، جیسے سمیع ، بصیر ، حی وغیرہ اللہ کی صفتیں ہیں ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّہ، ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
اللہ تعالیٰ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے (پ۱۵، بنیۤ اسراء یل:۱)او ر بندوں کی بھی صفتیں یہ ہیں ۔ فرماتا ہے:
فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿ۚ ۲﴾
ہم نے انسان کو سننے والا ، دیکھنے والا بنادیا ، اللہ کا سننا، دیکھنا(پ۲۹،الدھر:۲) ۔دائمی، غیر محدود ، مستقل ،ذاتی ہے اور بندوں کا دیکھنا، سننا ، زندہ ہونا ۔ عارضی ، محدو د ، عطائی ، غیر مستقل ہے ۔ اسی لئے خدا تعالیٰ کانام بھی ''علی'' ہے۔
وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
(پ۳،البقرۃ:۲۵۵) اور حضرت علی مرتضی کانام علی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے''مولنا'
'اَنْتَ مَوْلٰنـَا
(پ۳،البقرۃ:۲۸۶) اور عالموں کو مولانا صاحب کہا جاتا ہے مگر اللہ کا علی یامولیٰ ہونا اور طر ح کا ہے اور بندوں کا علی او ر مولیٰ ہونا کچھ اور قسم کا یہ فر ق ضروری ہے ۔
قاعدہ نمبر۱۶: علم غیب کے مراتب اور ان کی پہچان
الف:جہاں علم غیب کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا جاوے یا اس کی بندوں