Brailvi Books

علمُ القرآن
151 - 244
(6) ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾
آپ ان کافروں پر وکیل نہیں ۔(پ7،الانعام:107)
(7) وَکَفٰی بِاللہِ حَسِیۡبًا ﴿۶﴾
اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔(پ4،النسآء:6)
(8) وَلِلہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ
صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں وہ چیزیں جو آسمانوں او رزمین میں ہیں۔(پ4،اٰل عمرٰن:129)
(9)  فَاتَّخِذْہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾
پس اللہ تعالیٰ ہی کو وکیل بناؤ۔(پ29،المزمل:9)

    ان جیسی ساری آیتو ں میں حقیقی مالک ،حقیقی وکیل، حقیقی گواہ ، حقیقی حساب لینے والا مراد ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی حاکم نہیں، کوئی حقیقی مالک ، حقیقی وکیل، حقیقی گواہ نہیں جیسے کہ سکندر نامے میں ہے ؎
پناہ بلندی و پستی توئی

ہمہ نیست اند، آنچہ ہستی توئی
''ب'' کی مثال ان آیا ت میں ہے :
(1) وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا
اور اگر تم خاوند وبیوی کی مخالفت کا اندیشہ کرو تو ایک حکم پنچ خاوند والوں کی طر ف سے اور دوسرا حکم پنچ عورت والوں کی طر ف سے بھیجو۔(پ5،النسآء:35)
Flag Counter