| علمُ القرآن |
الف: حکم ، گواہی ، وکالت ، حساب لینا ، مالک ہونا ۔ ان چیز وں کو جہاں قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے وہاں حقیقی ، دائمی ، مستقل مراد ہوگا مثلا کہا جاوے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے یا خدا کے سواء کسی کو وکیل نہ بناؤ تو مراد حقیقی دائمی مالک و مستقل وکیل ہے ۔
ب: جب ان چیز وں کو بندوں کی طرف نسبت کیا جاوے تو ان سے مراد عارضی ، عطائی ،مجازی ہوں گے ۔
'' الف'' کی مثال یہ ہے :(1) اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ
نہیں ہے حکم مگر اللہ تعالیٰ کا ۔(پ7،الانعام:57)
(2) وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا ﴿۷۹﴾
او راللہ ہی کافی گواہ ہے۔(پ5،النسآء:79)
(3) اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾
میرے سوا کسی کو وکیل نہ بناؤ ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:2)
(4) وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾
آپ کا رب کافی وکیل ہے ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:65)
(5) وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیۡہِمْ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾
ہم نے آپ کو ان کافروں پر وکیل بناکر نہ بھیجا ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:54)