| علمُ القرآن |
بے شک نمازمسلمانوں پر وقت کے مطابق واجب ہے ۔(پ5،النسآء:103)
ان جیسی تمام آیتو ں میں صلوٰۃ سے مراد نماز ہے کیونکہ یہاں صلوٰۃ سے علیٰ کا تعلق نہیں دوسری آیت میں اگر چہ'' علیٰ''ہے مگر علیٰ کا تعلق کتاباً سے ہے ، نہ کہ صلوٰۃ سے لہٰذا یہاں بھی مراد نماز ہی ہے ۔قاعدہ نمبر۱۲: مُردوں کا سننا اور ہیّت کے معانی اوران کی پہچان
جب قرآن شریف میں مُردے ، اندھے، بہرے، گو نگے ، قبر والے کے ساتھ نہ لوٹنے ، نہ ہدایت پانے، نہ سنا نے وغیرہ کا ذکر ہوگا تو ان لفظوں سے مراد کافر ہونگے یعنی دل کے مردے ، دل کے اندھے وغیر ہ عام مردے وغیر ہ مراد نہ ہوں گے اور ان کے نہ سنانے سے مراد ان کا ہدایت نہ پانا ہوگا نہ کہ واقع میں نہ سننا ۔ اور ان آیات کامطلب یہ ہوگا کہ آپ ان دل کے مردے ، اندھے ، بہر ے کافروں کو نہیں سنا سکتے جس سے وہ ہدایت پرآجاویں یہ مطلب نہ ہوگا کہ آپ مردو ں کو نہیں سنا سکتے مثال یہ ہے ۔
(1) صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
یہ کافر بہرے ، گونگے، اندھے ہیں پس وہ نہ لوٹیں گے ۔(پ1،البقرۃ:18)