(2) وَصَلِّ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ
آپ ان کے لئے دعا کریں ۔ آپ کی دعا ان کے دل کا چین ہے ۔(پ11،التوبۃ:103)
(3) وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ
ان منافقوں میں سے کسی پر نہ آپ نماز جنازہ پڑھیں نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔(پ10،التوبۃ:84)
(4) اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پر ۔(پ22،الاحزاب:56)
ان جیسی تمام آیتوں میں صلوٰۃ سے مراد دعا یا رحمت یا نماز جنازہ ہی مرادہوگا کیونکہ کہ ان میں صلوٰۃ کے بعد'' علیٰ'' آرہا ہے ۔
''ب''کی مثال یہ ہے :
(1) وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ
نماز قائم کرو اور زکوۃ دو ۔(پ1،البقرۃ:43)