(3) وَاَوْحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوۡسٰۤی اَنْ اَرْضِعِیۡہِ
اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے دل میں ڈال دیا کہ انہیں دودھ پلاؤ ۔(پ20،القصص:7)
ان آیتو ں میں چونکہ وحی کی نسبت شہد کی مکھی یا موسیٰ علیہ السلام کی ماں یا شیطان کی طر ف ہے اور یہ سب نبی نہیں اس لئے یہاں وحی نبوت مراد نہ ہوگی بلکہ فقط دل میں ڈال دینا مراد ہوگا کبھی وحی اس کلام کو بھی کہا جاتا ہے جو نبی سے بلا واسطہ فرشتہ ہو ۔ جیسے اس آیت میں ہے ۔فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی ۚ﴿۹﴾فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی ﴿ؕ۱۰﴾
پس ہوگئے وہ محبوب دوکمانوں کے فاصلہ پر اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی کی ۔(پ27،النجم:9۔10)
معراج کی رات قرب خاص کے موقعہ پر جب فرشتہ کا واسطہ نہ رہا تھا جو رب تعالیٰ سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہم کلامی ہوئی اسے وحی فرمایاگیا۔قاعدہ نمبر ۲ : عبد کے معنی اوران کی پہچان
الف: جب'' عبد ''کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طر ف ہو تو اس سے مراد مخلوق عابد یا بندہ ہوتا ہے ۔
ب: جب'' عبد '' کی نسبت بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی خادم نوکر ہوں گے ۔
'' الف ''کی مثال ان آیات میں ہے :