| علمُ القرآن |
قاعدے کیا ہیں؟ کیسے معلوم کریں کہ یہاں فلاں معنی ہیں۔ ان قواعد کو بغور مطالعہ کرو تاکہ ترجمہ قرآن میں غلطی واقع نہ ہو۔
قاعدہ نمبر ۱: وحی کے معنی اور ان کی پہچان
الف: جب وحی کی نسبت نبی کی طر ف ہوگی تو ا سکے معنی ہوں گے رب تعالیٰ کابذریعہ فرشتہ پیغمبر سے کلام فرمانا یعنی وحی الٰہی عرفی ۔
ب:جب وحی کی نسبت غیرنبی کی طر ف ہو تواس سے مرادہوگادل میں ڈالنا، خیال پیدا کردینا ۔ الف کی مثال ان آیا ت میں ہے :(1) اِنَّاۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوْحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعْدِہٖ
بے شک ہم نے وحی کی تمہاری طر ف جیسے وحی کی تھی نوح اور ان کے بعد والے پیغمبر وں کی طر ف ۔(پ6،النسآء:163)
(2) وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤْمِنَ مِنۡ قَوْمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدْ اٰمَنَ
اور وحی کی گئی نوح کی طر ف کہ اب ایمان نہ لا ئیگا مگر وہ جو ایمان لاچکے ۔(پ12،ھود:36)
ان جیسی صدہا آیتوں میں وحی سے مراد ہے وحی ربانی جو پیغمبر وں پر آتی ہے۔ ''ب '' کی مثال یہ آیات ہیں:(1) وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتو ں میں ۔(پ14،النحل:68)