Brailvi Books

علمُ القرآن
105 - 244
    عبادت عبدٌ سے بنا ہے بمعنی بندہ، عبادت کے لغوی معنی ہیں بندہ بننا یا اپنی بندگی کا اظہار کرنا جس سے لازم آتا ہے معبود کی الوہیت کا اقرار کرنا مفسرین نے اس کی تعریف انتہائی تعظیم بھی کی ہے اورانتہائی عاجزی بھی۔دونوں تعریفیں درست ہیں کیونکہ عابدکی انتہائی عاجزی سے معبودکی انتہائی تعظیم لازم ہے اور معبود کی انتہائی تعظیم سے عابد کی انتہائی عاجزی مستلزم۔ انتہائی تعظیم کی حد یہ ہے کہ معبود کی وہ تعظیم کی جاوے جس سے زیادہ تعظیم ناممکن ہو او راپنی ایسی عاجزی کی جاوے جس سے نیچے کوئی درجہ متصور نہ ہو اس لئے عبادت کی شرط یہ ہے کہ بندگی کر نیوالا معبود کو الٰہ اور اپنے کو اس کا بندہ سمجھے یہ سمجھ کر جو تعظیم بھی اس کی کریگا عبادت ہوگی ۔ اگر اسے الٰہ نہیں سمجھتا ۔ بلکہ نبی ، ولی ، باپ ، استاد ، پیر ، حاکم ، بادشاہ سمجھ کر تعظیم کرے تو اس کا نام اطا عت ہوگا ۔ توقیر ، تعظیم ، تبجیل ہوگا ، عبادت نہ ہوگا غرضیکہ اطاعت وتعظیم تو اللہ تعالیٰ اور بندوں سب کی ہوسکتی ہے لیکن عبادت اللہ تعالیٰ ہی کی ہوسکتی ہے بندے کی نہیں اگر بندے کی عبادت کی تو شرک ہوگیا اور اگر بندے کی تعظیم کی تو جیسا بندہ ویسا اس کی تعظیم کا حکم ۔کوئی تعظیم کفر ہے، جیسے گنگا جمنا ، ہولی ، دیوالی کی تعظیم ۔ کوئی تعظیم ایمان ہے جیسے پیغمبر کی تعظیم، کوئی تعظیم ثواب ہے، کوئی گناہ ۔ اسی لئے قرآن کریم میں عبادت کے ساتھ ہمیشہ اللہ تعالیٰ یا رب یاالٰہ کا ذکر ہے اور اطاعت وتعظیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے اورنبی کا بھی ، ماں باپ کا بھی حاکم کا بھی فرماتا ہے :
(1) وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا
آپ کے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:23)
Flag Counter