Brailvi Books

علمُ القرآن
104 - 244
    اس آیت سے پتا لگاکہ میثاق کے دن رب تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے دو وعدے لئے ۔ ایک حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ، دوسرے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرنا ۔ اور رب تعالیٰ جانتا تھا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے کسی کی زندگی میں نہ تشریف لائینگے پھر بھی انہیں ایمان لانے اور مدد کرنے کا حکم دیا معلوم ہوا کہ روحانی ایمان اور روحانی مدد مراد ہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے دونوں وعدوں کو پورا کیا کہ معراج کی رات سب نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھی یہ ایمان کاثبوت ہے ۔ بہت سے پیغمبر وں نے حج الوداع میں شرکت کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شب معراج دین مصطفی کی اس طر ح مدد کی کہ پچا س نمازوں کی پانچ کرادیں ۔ اب بھی وہ حضرات انبیائعلیہم الصلوۃ والسلام مسلمانوں کی اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے دین کی روحانی مدد فرمارہے ہیں اگر یہ مدد نہ ہوا کرتی تو یہ عہد لغو ہوتا عیسی علیہ السلام آخر زمانہ میں اس عہد کو ظاہر طور پر بھی پورا فرمانے کے لئے تشریف لائیں گے ۔
عبادت
    قرآن شریف کی اصطلاحوں میں عبادت بھی بہت اہم اور نازک اصطلاح ہے ۔کیونکہ یہ لفظ قرآن شریف میں بہت کثرت سے آیا ہے اور اس کے معنے میں نہایت باریکی ہے ۔ اطاعت ، تعظیم ، عبادت ان تینوں میں نہایت لطیف فرق ہے بعض لوگ اس نازک فرق کا اعتبار نہیں کرتے ۔ ہر تعظیم کو بلکہ ہر اطاعت کو عبادت کہہ کر سارے مسلمانوں بلکہ اپنے بزرگوں کو بھی مشرک وکافر کہہ دیتے ہیں ۔ اس لئے اس کا مفہوم ، اس کا مقصو د ، بہت غور سے سنیئے ۔
Flag Counter