Brailvi Books

احساس ذمہ داری
38 - 51
داری ادا کر نے کے لئے پہلے پہل بچوں کے غبارے اور جھاڑو وغیرہ بھی فروخت کئے ،اس کے ساتھ ساتھ آپ تقوی وپرہیز گاری اور عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حسین امتزاج تھے ، آپ نے اُن دنوں اپنے چہرے پر سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سجائی(یعنی داڑھی آتے ہی رکھ لی)جب چہرے پر داڑھی اور سر پر عمامہ سجانا نہایت دشوار سمجھا جاتا تھا، ایسے نامساعد حالات میں آپ نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کو عملی طور پر سنتیں اپنانے کی طرف راغب کر نا شروع کردیا،یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ نے ''دعوتِ اسلامی'' جیسی عظیم عالمگیر تحریک کے مدنی کام کا آغاز کر دیا۔

     آپ کو آپکا احساسِ ذمہ داری دور دراز کا سفر کر واتا ،دن میں بسا اوقات ایک سے زائد مرتبہ بیانات کرتے اور بسوں ،ٹرینوں میں اور پیدل سفر کر کے مسجد مسجد ،گاؤں گاؤں ،شہر شہر خود تشریف لے جاتے ،آپ کے کھانے کا Tiffenساتھ ہو تا یہاں تک کہ نمک کی ڈبیا بھی ساتھ رکھتے ،اپنا پانی تک ساتھ رکھتے کہ کسی سے سوال نہ کر نا پڑجائے، مریضوں کی عیادت کرتے ، مُردوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیتے اور کفن پہناتے، نمازِ جنازہ کی امامت فرماتے اور غمی وخوشی کے مواقع پر مسلمانوں کی ایسی دلجوئی فرماتے کہ وہ بھی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے آپ کے شریک ِ سفر بن جاتے ،فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر نفلی عبادتوں ، خوفِ خدا عزوجل اور عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں گریہ وزاری اور ریاضتوں نے آپ کو لاکھوں مسلمانوں کی دلوں کی دھڑکن بنادیا۔

     دولت مندوں اور اربابِ اقتدار شخصیات سے بے نیازی نے آپ کو مزید