نہیں کر سکتے لہذا ! عافیت اسی میں ہے کہ کوئی ذمہ داری لی ہی نہ جائے ۔''ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں مدنی عرض ہے کہ وہ نیچے دی گئی امیرِ اہلِ سنت ،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ کی مبارک تحریر کو غور سے پڑھیں اور اپنے خیالات پر نظرِ ثانی فرمائیں ،چنانچہ آپ اپنے رسالے ' ' مُردے کے صدمے ''کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ
''نگران س مراد صرف کسی ملک یا شہر یا مذہبی و سماجی و سیاسی تنظیم کا ذمہ دارہی نہیں بلکہ عموماًہر شخص کسی نہ کسی کا ذمہ دار ہو تا ہے مثلاً مراقب( یعنی سپر وائزر)اپنے ماتحت مزدوروں کا، افسر اپنے کلرکوں کا ،امیرِ قافلہ اپنے قافلوں کا اور ذیلی نگران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایسے معاملات ہیں کہ ان نگرانیوں سے فراغت مشکل ہے۔ بالفرض اگر کو ئی تنظیمی ذمہ داری سے مستعفی ہو بھی جائے تب بھی اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بال بچوں کا نگران ہے۔ اب وہ اگر چاہے کہ ان کی نگرانی سے گلو خلاصی ہو تو نہیں ہو سکتی کہ یہ تو اسے شادی سے پہلے سوچنا چاہے تھا ۔بہرحال ہر نگران سخت امتحان سے دوچار ہے مگر ہاں جو انصاف کرے اس کے وارے نیارے ہیں چنانچہ ارشادِ رحمت بنیاد ہے،''انصاف کر نے والے نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں ،گھر والوں اور جن جن کے نگران بنتے ہیں ان کے بارے میں عدل سے کام لیتے ہیں ۔''