Brailvi Books

حسنِ اخلاق
73 - 74
سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں اپنے ہمسائے کی شکایت کی تو حضوررحمت عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' اپنے گھر کا سامان نکال کر راستے میں رکھ دو ۔''تو اس نے ایسا ہی کیا ۔ وہاں سے جو بھی گزرتا یہ دیکھ کر اسکے ہمسائے کو لعن طعن کرتا۔پھر وہ شخص آپ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی کہ'' یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم !لوگ مجھ پر لعنتیں بھیج رہے ہیں۔''آپ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' لوگوں سے پہلے تو اللہ عزوجل نے تجھ پرلعنت کی ۔'' یہ سن کر اس شخص نے توبہ کی اورآئندہ ہمسائے کو تکلیف نہ دینے کا عہد کیا۔ اس کے بعد اس کی شکایت کرنے والا شخص بھی رحمت عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کے پاس حاضر ہوا تو سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' اب تم اپنا سامان اٹھا ؤ اتنا ہی کافی ہے ۔''
 (الادب المفرد ، باب شکایۃ الجار ۶۸، رقم ۱۲۵، ص۵۵)
 (۲۳۹)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرت سیدتنا سلمہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک دن میں اورحضور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم لحاف میں تھے کہ ہمسائے کی بکری گھر میں داخل ہوگئی۔ جب اس نے روٹی اٹھائی تو میں اسکی طرف گئی اورروٹی کو اس کے جبڑے سے کھینچ لیا ۔یہ دیکھ کر حضوررحمت عالم سید دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' تجھے اس کو تکلیف دینا امان نہ دے گا کیونکہ یہ بھی ہمسائے کو تکلیف دینے سے کچھ کم نہیں ۔'' 

تمت بالخیر والحمدللہ رب العالمین
Flag Counter