| حسنِ اخلاق |
(۱۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تاجدارِمدینہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم مدینہ منورہ تشریف لائے توپہلے پہل لوگ آپ سے کتراتے تھے۔پہلے میں بھی انہی میں شامل تھا لیکن جب میں رحمۃللعلمین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کے دیدار سے مشرف ہوا تو میرے دل نے کہا یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں نے حضورسرورِکونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم سے سنی وہ یہ ہے کہ،'' کھانا کھلاؤ اورسلام عام کرو اوراپنے رشتہ داروں سے رشتہ جوڑو اوراس وقت نماز پڑھو جب لوگ آرام سے سور رہے ہوں تو تم سلامتی سے جنت میں داخل ہوجاؤگے۔''
(ترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۴۲، ج۴ ، رقم۲۴۹۳،ص ۲۱۹)
(۱۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضورسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اورعرض گزار ہوا،''سب اعمال میں سے سب سے افضل کام کون سے ہیں؟ ''سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' اللہ عزوجل پر ایمان لانا ،اسکی تصدیق کرنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اورحجِ بیت اللہ کرنا۔'' پھر جب وہ جانے لگا تو حضورسرورِکونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے اسے بلا کر ارشاد فرمایا،'' اسکے بعد کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الایمان ، با ب ای العمل افضل الخ،ج۱،رقم ۲۰۱، ص۲۲۴،۲۲۵)
(۱۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں بارگاہ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم میں حاضر ہوا اورعرض کی،'' اسلام کیا ہے ؟''