کیا ۔میں نے حیرانی کے عالم میں نگاہ اٹھائی کہ مجھ جیسے گندے شخص سے کسی کو کیا کام ہوسکتا ہے؟مجھے اپنے سامنے نورانی چہروں والے2 اسلامی بھائی نظر آئے جن کے سروں پر سبزعماموں کے تاج تھے ۔وہ آگے بڑھتے ہوئے بڑی اپنائيت سے کہنے لگے: ''آپ سے کچھ عرض کر نی ہے۔ '' مجھے زندگی ميں پہلی بار کسی نے اتنی محبت سے مخاطب کيا تھا۔ میں اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل آیا۔انہوں نے مجھ سے میرا نام وغيرہ پوچھا ، پھر مجھے شبِ براء ت کی اہمیت اور برکتوں کے بارے میں بتانے لگے۔ميں ان کے شفقت بھرے انداز ِ گفتگو سے پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا۔جب انہوں نے مجھے اس رات کی عظمت سے آگاہ کیا تو میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا کہ کیا اتنی عظیم رات بھی میں اپنے خالق عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی میں گزاروں گا جس ميں بڑے بڑے گناہ گاروں کو بخش ديا جاتا ہے،مگرآہ! نشہ کرنے والابدنصیب مغفرت کے پروانے سے محروم رہتا ہے۔یہ سوچ کر میں تڑپ کر رہ گیا ،محرومی کے صدمے نے مجھے بے چین کردیا ۔ اُن اسلامی بھائیوں کی اِنفرادی کوشش رنگ لائی اور میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو منانے کی ٹھان لی ۔ چنانچہ میں اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل دیا اور غسل کر کے کپڑے (جو کسی نے ترس کھا کر مجھے کچھ ہی دن پہلے دئيے تھے)تبدیل کئے ۔16برس کے بعد جب میں مسجد میں داخل ہوا اور نماز کی نیت باندھی تومجھ پر ایسی رقّت طاری ہوئی کہ رحمتِ الہٰی کی بارش میری آنکھوں کے ذریعے رُخساروں