Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
97 - 649
وزاری کرنے لگے اورایک نوجوان اپنے گناہوں کی وجہ سے روتا ہوا غم کی حالت میں کھڑاہو گیا اور عرض کی:''یاسیدی! بتائیے کہ کیامیرے روزے مقبول ہیں؟ کیا میرا راتوں کا قیام دوسرے قیام کرنے والوں کے ساتھ لکھا جا ئے گا؟ حالانکہ مجھ سے بہت گناہ سرزدہوئے، میں نے اپنی عمر نافرمانیوں میں برباد کردی، عذاب کے دن سے غافل رہا۔''توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''اے لڑکے! اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرو، کیونکہ اس نے قرآنِ مجید میں ارشادفرمایاہے:
(3) وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ
ترجمۂ کنزالایمان :اوربےشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے تو بہ کی ۔ (پ16،طٰہٰ:82)

    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قرآن پڑھنے والے کو یہ آیتِ مبارکہ پڑھنے کاحکم فرمایا:
(4) وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَعْفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ
ترجمۂ کنزالایمان :اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گنا ہوں سے درگزرفرماتاہے۔(۱)(پ25،الشوریٰ:25)

    اس نوجوان نے ایک زور دار چیخ ماری اور کہا: ''میری خوش نصیبی ہے کہ اس کا احسان مجھ تک پہنچتا رہا لیکن اس کے باوجود میں نافرمانیوں میں اضافہ کرتا رہا اور گمراہی کے راستے سے نہ لوٹا۔ کیا گزرے ہوئے وقت کی جگہ کو ئی اور وقت ہو گاکہ جس میں اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے گا۔'' پھر اس نے دوبارہ چیخ ماری اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔

    پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ رمضان کے فراق پر کیوں نہ رویاجائے؟ اورعفوومغفرت کے مہینے پر کیوں نہ افسوس کیا جائے؟ اس مہینے کی جدائی پر کیوں نہ غم کیاجائے جس میں جہنم سے آزادی نصیب ہوتی ہے؟
روزانہ دس لاکھ گنہگاروں کی دوزخ سے رہائی:
    منقول ہے کہ جب ماہِ رمضان آتا ہے تو جنت کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سجا یا جا تا ہے یہا ں تک کہ جب اس کی پہلی را ت آتی ہے تو عر ش کے نیچے ''مُثِیرہ'' نامی تیز ہو ا چلتی ہے تو جنتی درختوں کے پتے پھڑپھڑاتے ہوئے جنت کے دروا زوں پرلگتے ہیں تو ان کی ایسی آوا ز سنا ئی دیتی ہے کہ کسی سننے والے نے اس سے زیا دہ دلکش آواز نہ سنی ہو گی۔ پھر زینت سے آراستہ بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جنت کے بالاخانوں میں کھڑی ہو کرپکارتی ہيں: ''کیا کوئی خوش نصیب ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ کو ہمارے نکاح کا پیغام دے تاکہ اللہ عزَّوَجَلَّ ہمارا نکا ح اس سے کردے۔'' پھر دربانِ جنت سے پوچھتی ہيں:
1۔۔۔۔۔۔مفسِّر شہیر، خلیفۂ اعلیٰحضرت، صدرالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادِم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنِب رہنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو۔''
Flag Counter