| حکایتیں اور نصیحتیں |
تشریف لاتے ہیں، اس کی ہر رات اللہ عزَّوَجَلَّ خود روزے داروں پر سلام بھیجتا ہے اور جب لیلۃ القدر تشریف لاتی ہے تو حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین علیہ السلام نازل ہوکر فرشتوں سے فرماتے ہیں: ''روزے داروں کوخوشخبری سنا دو کہ ان کے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ان کو اس قدر نیکیاں عطا فرمائی ہیں جن کو کوئی شماربھی نہیں کر سکتا۔ اس رات آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شروع رات سے ہی فرشتے نازل ہوجاتے ہیں اورپوری رات زمین میں ہی ٹھہرتے اور عبادت کرتے ہیں، اور رات کی تاریکی میں قیام کرنے والے روزے داروں سے مصافحہ کرتے اوراللہ تبارک وتعالیٰ کی تسبیح وتقدیس بیان کرتے ہیں۔
شوال کے چھ روزوں کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُناابوایوب انصاری رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھر شوال کے چھ روزے رکھے گویا اس نے سارا زمانہ روزے رکھے۔''
(السنن الکبری للنسائی،کتاب الصیام، با ب ذکر اختلاف ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۸۶۲۔ ۶۳،ج۲،ص۱۶۳)
روزے کی جزا:
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،باعث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ''ابنِ آدم کا ہرعمل اسی کے لئے ہے سوائے روزے کے کیونکہ یہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الصوم ، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم ، الحدیث۱۹0۴، ص۱۴۹)
اے نافرمانیوں سے رب عَزَّوَجَلَّ کا مقابلہ کرنے والے اور نگہبان سے شرم و حیا نہ کرنے والے! بے شک ماہِ رمضا ن کی جدائی قریب آچکی ہے اور توابھی تک اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے صلح کرنے میں کا میاب نہ ہوا۔ قبولیت کی ہواچل چکی ہے اورعرفانِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی مہک محسوس ہورہی ہے، کیا تو نے ماہِ رمضا ن کی شان میں رحمن ومنان عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا: ''روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔''
(صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللہ تعالی''یُرِیْدُوْنَ اَن یُبَدِّلُوْا کَلَامَ اللہ''الحدیث۷۴۹۲،ص۲۴ ۶)
مرنے کے بعدنیک اعمال مدد کرتے ہیں:
منقول ہے کہ ایک شخص کو نزع کے عالم میں شیاطین نے گھیر لیا تو ذِکْرِ اِلٰہِی عَزَّوَجَلَّ نے اسے بچا لیا۔ جب انتقال ہوا