کرتاہے، اوریہ ایسا وقت ہوتاہے کہ دُنیا اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود محض رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے وہ ان تمام چیزوں کوترک کردیتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی محبت کامستحق بن جاتاہے اوراس کے مقبول بندوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔
منقول ہے کہ ''ایک نوجوان جب توبہ کرکے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرتاہے تواس کے لئے زمین وآسمان کے درمیان سترقندیلیں روشن کی جاتی ہیں اورملا ئکہ صف بستہ ہوکربلندآوازسے تسبیح تقدیس کرتے ہوئے اسے مبارک باد دیتے ہیں۔ جب ابلیسِ لعین اس کو سنتا ہے تو کہتا ہے: ''کیاخبرہے؟'' آسمان سے ایک منادی ندا دیتا ہے: ''ایک بندے نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے صلح کرلی ہے۔'' تو ابلیس ملعون اس طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے۔''
منقول ہے کہ جب بندے کا گناہوں سے بھراہوا نامۂ اعمال اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرماتا ہے :''میرے بندے کے نامۂ اعمال میں کیاہے؟''حالانکہ وہ سب سے زیادہ جانتاہے۔ توفرشتے عرض کرتے ہیں: ''اے ہمارے معبودعَزَّوَجَلَّ ! اس کانامۂ اعمال تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل نہیں۔''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ''اگر اس کانامۂ اعمال میری بارگاہ میں پیش کئے جانے کے لا ئق نہیں(تو کیا ہوا) میری رحمت تواس کے لائق ہے،اے فرشتو! گواہ ہوجاؤ!بے شک میں نے اس کوبخش دیااور معاف فرما دیا اورمیں توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہوں۔''