حضرتِ سیِّدُنا ابوکنود علیہ رحمۃ اللہ الودود بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو وعظ ونصیحت کر رہا تھااور آگ اور بیڑیوں کاذکر کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے پاس کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ''اے وعظ کرنے والے ! لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے کیوں مایوس کرتے ہو؟ پھر یہی آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتاہے ،بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔(پ24،الزمر:53)
(شعب الایمان للبیھقی ، باب فی الرجا من اللہ،الحدیث۱0۵۳،ج۲،ص۲۱)
حضرتِ سیِّدُنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:''پہلی امتوں میں ایک شخص کثرتِ عبادت سے اپنے نفس پر سختی کرتا اور لوگوں کو رحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے مایوس کرتا۔جب اس کا انتقال ہوا تو کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہے اور عرض کر رہا ہے:''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !میرے لئے تیری بارگاہ میں کیا(اجر)ہے؟''تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے جواب ملا: ''آگ۔''عرض کی:''میری عبادت و ریاضت کہاں گئی؟'' ارشاد فرمایا:''تودنیا میں لوگوں کو میری رحمت سے مایوس کرتا تھا، آج میں تجھے اپنی رحمت سے مایوس کر دوں گا۔''
(جامع معمر بن راشد مع مصنف عبدالرزاق،کتاب الجامع ،باب الا قناط ،الحدیث۲0۷۲۸،ج ۱0،ص۲۶۱)
اے میرے پيارے اسلامی بھائی! اگراللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اپنی بارگاہ میں معافی سے مایوس کرنے کا ارادہ فرما لے تو کون ہے جوتیرے گناہ بخشے گا؟اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود ارشاد فرمایا:
(2) وَمَنۡ یَّغْفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللہُ ۪۟
ترجمۂ کنزالایمان:اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے۔(پ4،اٰل عمران:135)
اور پھر اپنے وسیع عفووکرم کے پیشِ نظر فرمایا:
اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتاہے ۔(پ24،الزمر:53)