| حکایتیں اور نصیحتیں |
سرورِذیشان،رحمتِ عالمیان،محبوبِ رحمن عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''جب میت کو قبر میں اتار دیا جاتاہے توقبراس سے خطاب کرتی ہے :''اے آدمی تیراناس ہو!تونے کس لئے مجھے فراموش کررکھا تھا؟کیا تجھے اتنا بھی پتا نہ تھا کہ میں فتنوں کا گھر ہوں،تاریکی کا گھر ہوں،پھر تو کس بات پر مجھ پراکڑ اکڑ کر چلتا تھا؟'' اگر وہ مردہ نیک بندے کا ہو تو ایک غیبی آواز قبر سے کہتی ہے ،''اے قبر!اگر یہ ان میں سے ہو جو نیکی کا حکم کرتے رہے اور برائی سے منع کرتے رہے تو پھر! (تیرا سلوک کیا ہوگا؟)'' قبر کہتی ہے، ''اگر یہ بات ہو تو میں اس کے لئے گلزار بن جاتی ہوں۔''چنانچہ، پھر اس شخص کا بدن نور میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کی روح ربُّ العٰلمین عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف پرواز کرجاتی ہے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث۹۴۲،ج۲۲،ص۳۷۷)
قبرکی پکار:
حضرتِ سیِّدُناکعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''قبر روزانہ پانچ مرتبہ یہ نداء کرتی ہے ،اے آدمی !تو میری پیٹھ پر چلتا ہے جبکہ میرا پیٹ تیرا ٹھکا نہ ہے۔اے آدمی!تو میری پیٹھ پر ہنستا ہے جلد ہی میرے اندر آکر روئے گا۔اے آدمی !تو مجھ پر حرام کھاتا ہے عنقریب میرے پیٹ میں تجھے کیڑے کھائیں گے۔اے آدمی!تومیری پیٹھ پر خوشیاں مناتا ہے عنقریب مجھ میں غمگین ہو گا۔''
کسی زاہد سے پوچھا گیا:''آپ کیسے ہیں؟''اس نے جواب دیا:ــ''اس شخص کاحال کیسا ہو گا جو بغیر زادِ راہ کے سفر کرتاہے،کل جب ملک الموت آئیں گے تو اس کے پاس کوئی حجت نہ ہو گی اور جو وحشت ناک قبر میں بلامونس رہے گااس کا حال کیسا ہو گا؟''گریۂ عثمانی :
منقول ہے،حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی قبرکے قریب کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی مبارک تر ہوجاتی۔اس بارے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسار کیا گیاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت ودوزخ کے تذکرہ پر نہیں روتے مگر جب کسی قبر کے قریب کھڑے ہوتے ہیں تو اس قدر گریہ وزاری فرماتے ہیں، اس کا کیا سبب ہے؟'' حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں نے سیِّدُ المبلِّغین،شفیعُ المذنبین،رحمۃٌ للعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: ''بے شک آخرت کی سب سے پہلی منزل قبر ہے۔قبر والے نے اس سے نجات پائی تو بعد کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کامعاملہ زیادہ سخت ہے۔''
(جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی فظاعۃ القبر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۳0۸،ص۱۸۸۴)