| حکایتیں اور نصیحتیں |
اپنے سے پہلے جانے والوں کے پاس پہنچنے کو بھولے رہو گے؟ کب تک کثرتِ ملامت وعتاب تم میں بے اثر رہے گی؟ کب تک اپنا سارا مال واسباب چھوڑ کر کُوچ کرنے کو یاد نہیں کروگے؟آخر کب تک تمہیں نصیحت سمجھ میں نہیں ائے گی ؟ بے شک تجھے کہاگیا، '' جاگ جا او بے خبر! جاگ جا۔تیرے جیسے کتنوں کے ساتھ خواہشات کھیلیں ۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
(2) اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔ (پ30،التکاثر:1،2 )
یعنی مال واولاد کی زیادہ طلبی نے تمہیں موت کی تیاری سے غافل رکھا۔ حضور نبئ رحمت، شفیعِ اُمَّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' عذابِ قبر سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرو۔''(3) کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔(پ30،التکاثر:3)
یعنی موت کی سختیوں اور ہولناکیوں کے وقت تم جان لو گے۔(4) ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ؕ﴿4﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پھرہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔(پ30،التکاثر:3)
یعنی موت کے بعد قبر میں منکرنکیر کو دیکھ کرتم جان لو گے۔
حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''جب کسی بندۂ مؤمن کو قبر میں رکھاجاتاہے تواس کی قبرستر گز لمبی اور ستر گز چوڑی کردی جاتی ہے۔ اس پرخوشبودار ٹھنڈی ہوائیں چلائی جاتی ہیں۔ اسے ریشمی لباس پہنا یا جاتا ہے۔پھر اگر اس کے نامۂ اعمال میں کچھ تلاوتِ قرآن بھی ہو تواس کا نور ہی اسے قبر میں کافی ہوتا ہے۔ اور اس کی مثال دلہن کی سی ہے کہ وہ سوتی ہے تو اس کا محبوب ترین شخص ہی اسے بیدار کرتا ہے پھر وہ اس طرح بیدار ہوتی ہے گویا ابھی اس کی نیند باقی ہے۔ اورفاجر وفاسق اور کافر کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جاتاہے کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔اس پر اونٹ کی گردن کی مانند موٹے موٹے سانپ چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ وہ ان کا گوشت کھاتے ہیں یہاں تک کہ ہڈیوں پر ذرہ برابر گوشت بھی نہیں چھوڑتے۔پھرگونگے، بہرے اوراندھے فرشتوں کو لوہے کے گرز دے کر اس پرمسلّط کردیا جاتا ہے۔تو وہ ان گرزوں سے اسے مارتے ہیں، انہیں سنائی نہیں دیتا کہ اس کی چیخ وپکار سن کر ترس کھائیں، نہ انہیں دکھائی دیتا ہے کہ اس کی حالتِ زار دیکھ کر اس پر نرمی برتیں۔ اسے صبح وشام آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔''(الامان والحفیظ)(مصنف عبدالرزاق،کتاب الجنائز،باب الصبرو البکاء والنیاحۃ، الحدیث۶۷۳۱،ج۳،ص۳۷۴،بتغیرٍ)
(یااللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں قبروآخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)