Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
547 - 649
    ایک روایت میں ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ دعافرماتے:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!مجھ پر موت کی سختیاں آسان فر ما ۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب الذکر والموت ومابعدہا،باب ثالث فی سکرات الموت۔۔۔۔۔۔الخ ،ج ۵، ص۲۱0)
    ایک روایت میں سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دعا کے الفاظ یہ ہیں : ''موت کی سختیوں میں میری مدد فرما۔''
 (جامع الترمذی،ابواب الجنائز،باب ماجاء فی التشدیدعندالموت،الحدیث ۹۷۸،ص۱۷۴۴)
    حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:''اے میرے باباجان!ہائے! آپ کی تکلیف پر مجھے کتنا غم ہوا۔'' تو ارشاد فرمایا: '' آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی سختی نہ ہو گی۔ ''
 (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، باب وفاتہ، الحدیث ۶۵۸۸،ج۸، ص۲۱۴۔سنن ابن ماجۃ، ابواب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ ، الحدیث:۱۶۲۹، ص۲۵۷۴)
    امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جہاد کی ترغیب دلاتے اور فرماتے : ''اگر تم شہید نہ ہوگے تومرجاؤگے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!تلوار کی ہزار ضربیں بھی میرے نزدیک بستر پر مرنے سے آسان ہیں۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الذکرالموت،الخوف من اللہ تعالٰی،الحدیث۱۸۷،ج۵، ص ۴۵۱)
    حضرتِ سیِّدُناشداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''اہلِ ایمان پر موت ددنوں جہان کی تمام تر ہولناکیوں سے زیادہ دردناک ہے۔ موت کی تکالیف قینچیوں سے کاٹے جانے، آروں سے چیرے جانے اورہنڈیوں میں ابالے جانے سے سخت تر ہیں۔اگر مرنے والا اٹھ کر دنیا والوں کو موت کی تکالیف سے آگاہ کردے تو ان کا جینا دوبھرہوجائے اور نیندکا سب مزہ جاتا رہے۔''
 (الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الذکر الموت،الخوف من اللہ تعالٰی،الحدیث۱۷0،ج۵، ص ۴۴۶)
    منقول ہے:''حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کے انتقال کے بعدجب ان کی روح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ نے استفسار فرمایا: ''اے موسیٰ ! تم نے موت کو کیسا پایا؟''عرض کی : '' میں نے خود کو چڑیاکی مانند پایا۔ جب اس کو زندہ کڑاہی میں بھونا جائے تونہ وہ مرے کہ راحت پائے اور نہ نجات پائے کہ اُڑ جائے۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب الذکروالموت ومابعدھا،باب ثالث فی سکرات الموت۔۔۔۔۔۔ الخ ،ج۵،ص۲۱0)
    دوسری روایت میں ہے :''میں نے خود کوزندہ بکری کی مثل پایا جس کی کھال اُتار دی جائے ۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب الذکروالموت ومابعدھا،باب ثالث فی سکرات الموت۔۔۔۔۔۔ الخ ،ج۵،ص۲۱0)
    اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:
 (1) وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتاتھا۔ (پ26،قۤ:19)

    ''بِالْحَقِّ''سے مراد معاملۂ آخرت کی حقیقت ہے کہ جب مرنے والاآگاہ ہوگا اور بچشمِ سر موت کو دیکھے گا۔ اور ملکُ الموت کا مشاہدہ اور اسے دیکھ کر دل میں پیدا ہونے والا خوف اور گھبراہٹ ایک ایسا امر ہے جس کی حقیقت بیان کرنے سے ہر
Flag Counter