Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
546 - 649
ہر عضو موت کا شکار:
    کہتے ہیں،موت کی تکلیف وہی جانتاہے جو اس کا شکار ہوتااور اس کی تکالیف سے دوچار ہوتا ہے۔موت کی تکلیف تلوار کے وار سے زیادہ دشوار ہے۔ اس کا درد قینچیوں سے کاٹے جانے اور آروں سے چیرے جانے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس لئے کہ تلوار سے کٹ جانے کی تکلیف بدن میں صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک اس میں قوت(یعنی حیات)باقی رہتی ہے۔ اسی وجہ سے زخمی چِلاّتا اور فریاد کرتاہے جبکہ موت کا معاملہ تو اس کے برعکس ہے کیونکہ مردے کے دل پر طاری ہونے والے کرب واضطراب کی شدت اس کی آوازکو ختم کر دیتی اور قوت کو کمزورکر دیتی ہے ۔موت جسم کے ہر عضو کو اس طرح بے کاروبے زور کردیتی ہے کہ اس سے قوتِ فریاد بھی چھین لیتی ہے۔عقل کومدہوش اور زبان کو خاموش کر دیتی ہے۔ ساتھ ہی دیگر اعضاء کی طاقت کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے ۔مردہ چیخ وپکار کرکے راحت چاہتا ہے لیکن کرے کیا؟قدرت نہیں۔ اگرچہ نزعِ روح کے وقت سننے کی قوت باقی رہتی ہے۔روح نکلتے وقت سینے اور گلے سے گائے، بیل کی مثل آوازیں نکلتی ہیں۔چہرے کا رنگ سیاہی مائل خاکی رنگ میں بدل جاتاہے۔آنکھوں کے سیاہ ڈھیلے پپوٹوں کی طرف بلند ہوجاتے ہیں۔خصیے (یعنی فوطے) بھی اپنی جگہ سے اٹھ جاتے ہیں۔ انگلیاں زرد پڑ جاتی ہیں۔ہر عضو جدا جدا موت کا شکار ہوتاہے۔سب سے پہلے پاؤں پھر پنڈلیاں پھر رانیں موت کی زد میں آ جاتی ہیں۔ یوں ہر عضو باربارشدت وسختی اورکرب واضطراب سے دوچارہوتاہے۔ بالآخر جب روح گلے تک پہنچتی ہے تو دنیا اور اہلِ دنیا نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اور حسرت وندامت اسے گھیر لیتے ہیں۔

    مروی ہے :''اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کسی مریض کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ''بے شک میں اس کی تکلیف جانتا ہوں، اس کی ہر رگ،جدا جدا موت کی اذیت کا شکار ہے۔''
 (البحر الزخاربمسند البزار،مسندسلمان الفارسی،الحدیث۲۵۱۲،ج۶،ص۴۸0)
    مروی ہے، سرکارِابد قرار، شافعِ روزِ شمار، محبوبِ غفّار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس بوقتِ وصال پانی کا ایک پیالہ تھا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنا دستِ اقدس اس میں ڈالتے پھراسے چہرۂ انور پر پھیرتے اور فرماتے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی سختیا ں بہت ہیں۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث ۴۴۴۹،ص۳۶۵)
Flag Counter