گھر میں جاؤاورراہبوں کے ساتھ اُن کی عید اور قربانی میں شرکت کرو۔اس میں ایک خبر اور اہم معاملہ ہے۔'' فرماتے ہیں:میں نے اس خیال سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کی اور کہا،'' میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا۔''جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتِفِ غیبی کی آواز آئی۔ اس نے وہی بات دہرائی۔ میں ہانپتے کانپتے بیدار ہوکر اٹھ بیٹھا اورابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ دل میں پھر نداآئی''تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں،تم ہمارے ولی و نیک بندے ہو، تمہارا نام فرمانبرداروں کے رجسٹر میں درج ہے۔ لیکن ہماری خاطر راہبوں کا سا لباس اور زُنّار پہن لو، تم پر کوئی گناہ نہیں۔''آپ فرماتے ہیں:''میں صبح سویرے اٹھا اور حکم کی بجاآوری میں جلدی کی۔ راہبوں کاسالباس پہنا اور سمعان کے گرجا گھرپہنچ گیا۔ جب ان کا بڑا پادری آیا تو تمام راہب اکٹھے ہوگئے اوراس کو سننے کے لئے سب نے کان لگادئیے لیکن اس کے پاؤں لڑکھڑاگئے اور وہ کوئی بات نہ کر سکا گویا اس کے منہ میں لگام دے دی گئی ہو۔ یہ کیفیت دیکھ کرپادریوں اور راہبوں نے اس سے پوچھا:''اے سردار!کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے؟ ہم تو آپ کی باتوں سے ہدایت پاتے اور آپ کے علم کی پیروی کرتے ہیں۔'' اس نے جواب دیا: ''مجھے یہ چیز گفتگوسے مانع ہے کہ آج تمہارے درمیان کوئی محمدی بیٹھا ہے اور وہ تمہارے دین کاامتحان لینے اور تم پرحملہ کرنے آیا ہے ۔'' انہوں نے کہا: ''ہمیں دکھادیں ہم اسے ابھی قتل کردیتے ہیں۔''اس نے کہا:''اسے دلیل و برہان کے ساتھ قتل کرو،میں اس سے امتحان لینا چاہتا ہوں، اس سےعِلْمُ الاَدْیَان(یعنی دینوں کے علم) کے متعلق سوالات کروں گا،اگر اس نے صاف صاف جوابات دے دئیے تو ہم اسے کچھ نہ کہیں گے اور اگر وضاحت نہ کرسکا تو اسے قتل کر دیں گے۔ امتحان کے وقت ہی آدمی عزت پاتا یا ذلیل ہوتا ہے۔''
سب راہب بولے:'' آپ جوچاہتے ہیں کریں، ہم یہاں مفید باتیں سیکھنے کے لئے ہی حاضر ہوئے ہیں۔'' اب ان کا بڑا سردار کھڑا ہوا اور زور سے آواز دی:'' اے محمدی ! تجھے محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کا واسطہ! جہاں بھی ہے کھڑا ہو جا تا کہ سب تجھے دیکھ لیں۔'' حضرت سیِّدُناابویزید علیہ رحمۃ اللہ المجیداس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان پر حمد و ثناء اور ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ جاری تھا۔'' پادریوں کے سردار نے کہا : ''اے محمدی!میں تجھ سے کچھ سوالات کروں گااورسُن!اگر تو نے ان کے جوابات وضاحت کے ساتھ دے دئیے تو ہم تیری پیروی کریں گے ورنہ تجھے قتل کر دیں گے۔''
حضرت سیِّدُنا ابویزید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے ارشاد فرمایا: ''نقلی وعقلی علوم میں سے جو چاہو پوچھو، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری گفتگو کو ملاحظہ فرمارہاہے ۔'' بڑے پادری نے پوچھا: (1)۔۔۔۔۔۔ مجھے اُس ایک کے متعلق بتاؤ جس کا دوسرا نہیں(2)۔۔۔۔۔۔اُن دوکے متعلق بتاؤ جن کا تیسرا نہیں(3)۔۔۔۔۔۔ان تین کے متعلق بتاؤجن کا چوتھا نہیں (4)۔۔۔۔۔۔ان چار کے متعلق بتاؤ جن کا پانچواں نہیں (5)۔۔۔۔۔۔ان پانچ کے متعلق بتاؤ جن کا چھٹا نہیں(6)۔۔۔۔۔۔ان چھ کے متعلق بتاؤ جن کا ساتواں نہیں(7)۔۔۔۔۔۔ان سات کے متعلق بتاؤ جن کا آٹھواں نہیں(8)۔۔۔۔۔۔ان آٹھ کے متعلق بتاؤ جن کانواں نہیں(9)۔۔۔۔۔۔ان نو کے متعلق بتاؤ جن کا