روتے روتے ہماری آوازیں بلند ہو گئیں۔ جب مجھے کچھ افاقہ ہوا تو ان دونوں نے پوچھا:''آپ کیوں رو رہے ہیں ؟'' میں نے کہا:''میں بہت گنہگارہوں، میرا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں خاص مقام ومرتبہ نہیں جو اس کرامت کو پہنچ سکے ۔'' انہوں نے پوچھا:''توپھر یہ سب کیسے تمہارے لئے ظاہر ہوا؟''میں نے کہا:''میں نے اپنے پیارے نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت ووجاہت کا وسیلہ پیش کیا اور عرض کی : ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!اگرچہ میں بہت گنہگارہوں ، اوریہ تیرے نبی محترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دین کے دشمن ہیں، مجھے ان کے سامنے دین کے معاملے میں رسوا نہ فرما۔'' تو اس کی بدولت وہ کچھ ظاہرہوا جو تم دیکھ چکے ہو،اس لئے اس میں میری کوئی کرامت نہیں بلکہ یہ سب میرے نبئ محترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کامعجزہ ہے۔''
یہ سن کر وہ کہنے لگے :''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ہم بھی ایسے ہی تھے۔ جب ہم نے تمہیں دیکھا تو تمہاری حالت دیکھ کر متأثر ہوئے۔ جب وضو اور کھانے کاوقت ہوا توہم نے تمہاری جیسی دعا کی اور کہا:'' یااللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر اس کا دین حق ہے اوراس کے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم برحق ہیں تو اس کے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے ہمارے لئے پانی اور کھانا ظاہر فرما دے۔'' اس دعا سے کھانا حاضر ہوگیا جو تم نے دیکھا ۔یہ سب تمہارے نبی محترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کامعجزہ اور برکت ہے۔اب ہم نے جان لیا کہ یہ دین حق ہے اورنبئ آخر الزماں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عظیم ہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے، ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ہم مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَکْرِیْماً کی طرف اکٹھے نکلے اور ایک مدّت تک وہاں رہے۔ پھر جب ہم شام کی طرف روانہ ہوئے تو جدا ہو گئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جب بھی مجھے یہ واقعہ یاد آتا ہے دنیامیری نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے ۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ دونوں راہب تھے، ان کے لئے سوئی کے سرے کے برابر ایمان چمکا تو انہوں نے سیدھا راستہ دیکھ لیا اور سچائی کے راستے پر چل پڑے۔ اور اے مسکین!غور کر!تیری عمر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانیوں میں کٹ گئی،تیری زندگی خسارے میں گزرگئی، پھر بھی تو دریائے غفلت میں غوطہ زن ہے؟ قبولیت کے خوشگوار جھونکے چل چکے اور توابھی تک نافرمانی کی شراب سے نشے میں چور ہے؟ اورتجھے ہوش ہی نہیں آتا؟ ہماری بارگاہ میں اخلاص و تصدیق لئے جلدی سے حاضر ہو جا۔ بے شک ہم نے تیرے لئے راہِ ہدایت کھول دیا اور توفیق کی طرف تیری رہنمائی کی ۔