Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
515 - 649
    اے میرے اسلامی بھائیو! تمہیں رغبت دلائی گئی لیکن تم راغب نہ ہوئے۔ تمہیں خوف دلایاگیالیکن تم مرعوب نہ ہوئے ۔ موت نے تم سے پہلوں کوہڑپ کرکے تمہیں بیدارکیالیکن تم بیدار نہ ہوئے۔ قرآنِ حکیم نے تمہیں نصیحت کی لیکن تم برائی سے بازنہ آئے نہ نصیحت حاصل کی۔ گویا کوچ کا نقارہ بجانے والا تمہاری محافل میں ندا دے رہا ہے:''اے سونے والو! خوابِ ِغفلت سے بیدار ہوجاؤ، تمہارا بلاواآگیاہے۔''اورپکاررہاہے:
؎؎ جنازہ آگے بڑ ھ کر کہہ رہا ہے اے جہاں والو!   میرے پیچھے چلے آؤ تمہارا راہنما میں ہوں
     کیامحبوبِ خداعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال سے بھی تم نے کوئی عبرت نہ پکڑی؟ کیاتمہیں اس زبردست چوٹ لگنے سے بھی کوئی نصیحت نہ ملی؟ کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے تشریف لے جانے سے بھی تمہیں اپنی بے ہوشی کے نشے سے اِفاقہ نہ ہوا؟ کیا تمہاری موت کے قریب ہونے نے تمہیں سوچ میں مبتلا نہ کیا؟ کیا تم نے اپنے سے پہلے شرفاء کی موت سے عبرت حاصل نہ کی؟ کیا تمہیں اپنے ماں باپ اور بچوں کو دفن کرکے بھی حسرت طاری نہ ہوئی؟تم کیسے لذّات سے لطف اندوز ہوتے ہو حالانکہ ہمارے صاحب ِ معجزات آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''اِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَکَرَاتٍیعنی موت کی سختیاں بہت ہیں۔''
     (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النَّبی  َ ووفاتہ،الحدیث۴۴۴۹، ص۳۶۵)
    کیا تمہاری عیش وعشرت والی زندگی کی مٹھاس کڑوی نہ ہوئی؟ جب فوت ہونے والے نے موت کے وقت کہا: ''وَاکَرْبَاہْ!ہائے! موت کی سختی۔'' کیاتمہیں حضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دردنے نہ رُلایا؟ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے والد ِمحترم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال پرکہا: ''وَاکَرْبِیْ بِکَرْبِکَ، یَا اَبَتَاہْ!یعنی اے میرے اباجان! آپ کی تکلیف سے مجھے کتنا غم ہوا۔'' کہاں ہیں عقل والے؟ کہاں ہیں وہ جو اہم کاموں میں مشغول رہتے تھے؟ کہاں ہیں جواس فانی گھر میں ہمیشہ رہنے کے دھوکے میں مبتلا تھے؟ جبکہ محبوب ِخدا، احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھی اس دُنیاسے وصال فرما گئے۔
؎ انبیا  کو  بھی  اجل  آنی  ہے                                        مگر  ایسی  کہ  فقط  آنی  ہے

پھر اُسی  آن کے بعد ان کی حیات            	مثل  سابق  وہی  جسمانی ہے

رُوح  توسب  کی ہے  زندہ  ان کا             	جسم  پُر نور  بھی  رُوحانی ہے

اوروں  کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف                                 	 اُن  کے  اَجسام کی کب ثانی ہے

پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی             	رُوح  ہے  پاک  ہے نورانی ہے

اس کی  ازواج  کو جائز ہے نکاح                                   اس  کا  ترکہ  بٹے  جو  فانی ہے

یہ  ہیں  حَیّ  ابدی  ان  کو رضاؔ            		صدقِ  وعدہ  کی  قضا  مانی ہے
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
Flag Counter