| حکایتیں اور نصیحتیں |
پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کو مجھ پر دعائے رحمت کی اجازت دے گا۔تمام مخلوق میں سب سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ پر نمازپڑھیں گے (یعنی دعائے رحمت کریں گے)،پھرحضرت میکائیلعلیہ السلا م پھرحضرت اسرافیل علیہ السلا م پڑھیں گے۔ پھر حضرت عزرائیل علیہ السلامملائکہ کے بڑے بڑے لشکروں کے ساتھ آئیں گے۔پھر تم مجھ پرگروہ در گروہ آنااور خوب سلام پیش کرنا اور چیخ وپکار اور رونے دھونے سے مجھے اذیت نہ پہنچانا۔اور تم میں سے جو امام ہو وہ ابتداء کرے پھرمیرے اہلِ بیت کے قرابت دار پھر خواتین کا گروہ اور پھر بچوں کا گروہ۔''حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو قبرِاَقدَس میں کون اُتارے گا؟'' ارشاد فرمایا:''میرے اہلِ بیت کے قریبی لوگ اور ان کے ساتھ بے شمارملائکہ ہوں گے، تم ان کو نہ دیکھ سکو گے مگر وہ تمہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ اُٹھواورمیری طرف سے بعد والوں کو سلام پہنچا دو۔'' (المرجع السابق،ص۲۱۹)
سرکارعلیہ الصلٰوۃ و السلام کا وصال اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کا حزن وملال:
جب حضور پُرنور، شافِعِ یومُ النشور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پردہ فرمایا تولوگ مسجدمیں جمع ہوگئے اور غم واَلَم سے سِسکِیاں لے لے کررونے لگے اور دُنیاتاریک ہوگئی ۔ حضرت سیِّدُنابلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پکار نے لگے :''وَا نَبِیَّاہْ!اے میرے جلیل القدر نبی!'' حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی فریاد نکلی:'' وَا اَبَتَاہْ!اے میرے عظیم باپ!'' حضرت سیِّدُناحسن وحضرت سیِّدُنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے صدا لگائی: ''وَاجَدَّاہْ!اے ہمارے جد ِ کریم!'' اور ہر مسلمان نے غم والم میں ڈوب کر کہا: ''وَاحُزْنَاہْ! ہائے! ہمارا رنج والم!''
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے وصال پُر ملال پر شدّتِ غم سے خلفائے راشدین امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے سیلِ اَشک رواں ہوگیا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس دنیا میں رہنے کی طمع کیوں کی جاتی ہے؟ حالانکہ نبئ مختار، محبوبِ غفارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے بھی اس کو چھوڑ دیا،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصالِ پُرملال پر جگر جل رہا ہے اور پلکیں آنسوؤں میں ڈوب رہی ہیں، صبر ہاتھوں سے جا رہا ہے اور آنسو بہہ رہے ہیں ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جدائی کی چوٹ نے تمام مصائب کو کم کر دیا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رخصت نے دوستوں کی زندگی بے کیف کردی۔ آنسوؤں کے ہار کو منتشر کردیا۔ پسلیوں کے درمیان غم کی آگ روشن کردی۔ جمے ہوئے آنسوؤں کو پگھلا دیااور غم کی بجھی ہوئی آگ کو بھڑکا دیا۔بقیہ۔۔۔۔۔۔حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا : یارسُول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم! جب آپ کو اللہ تعالیٰ کوئی فضل و شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتا ہے۔ اس پراللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔''