حضرت جبرائیل(علیہ السلام) میرے پاس آئیں، یہ ان کے آنے کا وقت ہے۔''
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:''ہم نے ایسی بات کا سامنا کیاجس کے متعلق ہمارے پاس کوئی رائے نہ تھی۔ گویا ہم پر کوئی مصیبت آن پڑی ہو، اس بات کی بڑائی اور ہیبت کی وجہ سے گھر والوں میں سے کوئی بھی بول نہ سکتا تھا۔ حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کو سلام فرماتاہے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مزاج پُرسی فرماتا ہے حالانکہ وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حالت خوب جانتا ہے لیکن وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کومزید کرامت و شرف عطا کرنا چاہتا ہے۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے جبرائیل امین علیہ السّلام! ملک الموت علیہ السّلام نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے اورپھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پوری بات بتائی۔''
حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کی :''یا محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا رب عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کامشتاق ہے،کیااس نے نہیں بتایا کہ و ہ کیا کرنا چاہتا ہے، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم!ملک الموت علیہ السلام نے آج تک کسی سے اجازت طلب نہیں کی، لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے شرف و مرتبہ کو پورا کرنے والا ہے۔'' پھرحضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ اَفلا ک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ملک الموت کے آنے تک آپ یہاں سے نہ جائیں۔'' پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خواتین کو اجازت دی اور ارشاد فرمایا:''اے فاطمہ! میرے قریب ہو جاؤ۔'' وہ حاضرِ خدمت ہوئیں اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف جھک گئیں۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کے کان میں سرگوشی فرمائی، انہوں نے اپنا مبارک سر اُٹھایا تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان میں بات کرنے کی سکت نہ تھی۔سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پھر فرمایا: ''اپنا سر میرے قریب کرو۔''تو وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف جھک گئیں ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ سرگوشی فرمائی ،خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سر اُٹھایا تو وہ مسکرا رہی تھیں لیکن کلام کرنے کی طاقت نہ تھی۔
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں:''ہمیں ان کی حالت سے بہت تعجب ہوا۔اس کے بعد جب ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا:''مجھے رسو ل اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بتایا کہ آج میں انتقال کر جاؤں گا۔ تو میں رونے لگی پھرفرمایا:''میں نے دعا کی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تجھے مجھ سے ملا ئے اور میرے ساتھ رکھے ۔'' چنانچہ،اس بات نے مجھے خوش کر دیا۔''پھر ملک الموت علیہ السلام حاضرِخدمت ہوئے، سلام کیااور اجازت طلب کی۔اجازت ملنے کے بعد عرض گزار ہوئے :''یا رسول اللہ (عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! اب مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کیا حکم فرماتے ہیں؟'' ارشاد ہوا:''مجھے میرے ربّ ِ کریم عَزَّوَجَلّ سے ملا دو۔'' انہوں نے عرض کی :''جی ہاں ،آج ہی ملا دوں گا، آپ کی ساعت(یعنی انتقال کی گھڑی ) آپ کے سامنے ہے۔''پھر وہ باہر نکل گئے اورحضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام بھی یہ