| حکایتیں اور نصیحتیں |
کی تو وہ صف در صف جداہوتے جاتے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم صفوں کے درمیان سے گزرتے جاتے حتی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم محرابِ اقدس کے پاس پہنچ گئے اورحضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر کھڑے ہوکرلوگوں کو نماز پڑھائی۔
پیارے آقا علیہ الصلٰوۃ والسلام کا آخری خطبہ :
جب حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک، سیّاحِ اَفلا ک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نماز سے فارغ ہوئے تو منبرِ اقدس پر جلوہ افروز ہو ئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا ء کی اورالوداع کہنے والے کی طرح چہرۂ اقدس لو گو ں کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا:
''اے لوگو! کیا میں نے تم تک رسالت نہ پہنچا دی اور نصیحت و امانت ادا نہ کر دی؟''لوگوں نے عرض کی :''کیوں نہیں، یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! بے شک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے رسالت پہنچا دی اور امانت ادا کردی اورامت کی خیر خواہی کی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا آخری وقت آگیا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری طرف سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوہر نبی علیہ السّلام کی جزا سے افضل جزا دے جو اس نے ہرنبی کو اس کی امت کی طرف سے عطا کی۔پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبر شریف سے نیچے اُترے اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو الوداع کہا، ان سے مصافحہ فرمایا، صحابۂ کرام علیہم الرضوان رو رہے تھے۔ملک الموت علیہ السلام کا اجازت طلب کرنا:
پھر سرکارِعالی وقار،شافِعِ روزِ شمار، محبوبِ غفّار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور مرض میں مبتلا رہے یہاں تک کہ ملک الموت علیہ السّلام ایک اعرابی کے روپ میں حاضرِ خدمت ہوئے اور حجرۂ اَقدَس کے دروازے پر کھڑے ہوکر عرض کی: ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم، اے سرچشمۂ نبوت و رِسالت کے اہلِ بیت! کیا مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضری کی اجازت ہے؟'' حضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جواباً فرمایا: ''اے اعرابی! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے آپ میں مشغول ہیں۔'' اس نے پھرعرض کی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دروازے سے جھانکا اور ملک الموت علیہ السلام کو دیکھ کرحضرت سیِّدَتُنافاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا:'' جانتی ہو، تمہارا مخاطب کون ہے؟'' عرض کی: ''اے ابّاجان! کوئی اعرابی ہے۔'' ارشاد فرمایا: ''یہ ملک الموت ہے، یہ لذات کو توڑنے (یعنی شکست دینے) والا ہے، اسے آنے دو۔'' پس وہ حاضرِ خدمت ہوئے اور سلام کیا پھر عرض کی: ''یا رسول اللہ(عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے یہ حکم دے کر بھیجا ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اجازت کے بغیرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رُوح قبض نہ کروں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا کیا حکم ہے؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ٹھہرجاؤحتی کہ