| حکایتیں اور نصیحتیں |
پاتا کہ جہاں التجا کروں۔ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! یہ تیرا ذلیل، گنہگار اوربیما ر بندہ تیرے بابِ کرم پر حاضر ہے اور تجھ سے پناہ کا طلب گار ہے۔ ہائے میری ہلاکت وبربادی! اگر تو نے مجھ پر رحم نہ فرمایا اور ہائے میری طویل حسرت! اگر تو نے مجھے معاف نہ فرمایا ۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سجدہ کرتے اور طلوعِ فجر تک سرنہ اُٹھاتے۔ جب نماز پڑھ لیتے تو تلاوت شروع کر دیتے اور باقی دن میں پورا قرآن پڑھ لیتے۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انتقال فرمایاتو سورۂ یٰسین کی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرما رہے تھے:
(1) اِنِّیۡۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿24﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں۔(۱) (پ23،یٰسۤ:24)
تدفین کے بعدجب فرشتوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے اگلی آیتِ مبارکہ تلاوت کی:(2) اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوۡنِ ﴿ؕ25﴾قِیۡلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ؕ قَالَ یٰلَیۡتَ قَوْمِیۡ یَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ26﴾بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الْمُکْرَمِیۡنَ ﴿27﴾
ترجمۂ کنزالایمان:مقرَّر، مَیں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری سنو۔ اس سے فرمایا گیاکہ جنت میں داخل ہو۔ کہا: کسی طرح میری قوم جانتی جیسی میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھے عزت والوں میں کیا۔(۲)(پ23،یٰسۤ:25تا27)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ کیسے عظیم لوگ ہیں جو اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے حضور مناجات کرتے رہتے ہیں جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، یہ عشق ومحبت کا بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جب رات کی تاریکی چھاجائے تو خوش ہوتے ہیں۔یہی لوگ کل جنت الخلد میں نعمتیں لوٹیں گے اور اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے وجہِ کریم کا جلوہ دیکھیں گے۔
ان کی شان قرآنِ پاک یوں بیان فرماتا ہے:(3) اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ62﴾
ترجمۂ کنزالایمان:سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔(۳)(پ11،یونس:62)
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''جب حبیب نجّار نے اپنی قوم سے ایسا نصیحت آمیز کلام کیا تو وہ لوگ ان پر یکبارگی ٹوٹ پڑے اور ان پر پتھراؤ شروع کیا اور پاؤں سے کُچلا یہاں تک کہ قتل کر ڈالا۔ قبر اُن کی انطاکیہ میں ہے۔ جب قوم نے ان پر حملہ شروع کیا تو اُنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فرستادوں سے بہت جلدی کرکے یہ کہا۔'' 2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''جب وہ جنّت میں داخل ہوئے اور وہاں کی نعمتیں دیکھیں۔ حبیب نجّار نے یہ تمنّا کی کہ ان کی قوم کو معلُوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے حبیب کی مغفرت کی اور اکرام فرمایا تاکہ قوم کو مرسلین کے دین کی طرف ر غبت ہو۔ جب حبیب قتل کردئیے گئے تواللہ ربُّ العزّت کا اس قوم پر غضب ہوا اور ان کی عقوبت و سزا میں تاخیر نہ فرمائی گئی۔ حضرت جبریل کو حکم ہوا اور ان کی ایک ہی ہولناک آواز سے سب کے سب مر گئے ۔'' 3۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر