Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
478 - 649
دانا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا کہ ایک قبر کے قریب بیٹھے مِٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔میں نے پوچھا:''آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟'' جواب دیا:''میں ایسی قوم کے پاس ہوں جو مجھے اذیت نہیں دیتی اور اگر میں غائب ہوجاؤں تو میری غیبت نہیں کرتی۔'' میں نے عرض کی:''روٹی مہنگی ہو گئی ہے ؟'' تو فرمانے لگے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے کوئی پرواہ نہیں،اگرچہ ایک دانہ دینار کا ملے۔ ہم پر اس کی عبادت فرض ہے جیسا کہ اس نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمارا رزق اس کے ذمۂ  کرم پر ہے جیسا کہ اس نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔''
ایسی جنت قید خانہ ہے جس میں قرب ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نہ ہو:
    منقول ہے کہ حضر ت سیِّدَتُنارابعہ عدویہ بصریہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا ایک آدمی کے پاس سے گزریں جو جنت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس میں تیار کی گئی نعمتوں کو یاد کر رہا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے اُسے فرمایا:''اے شخص! کب تک خدائے واحد عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کراس کے غیر میں مشغول رہے گا؟ ارے! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے! تجھے چاہے کہ پہلے قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو دیکھ پھر جنت کو دیکھ۔'' اس نے کہا:''اے پاگل عورت!یہاں سے چلی جا۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے فرمایا:''میں پاگل نہیں۔پاگل تو وہ ہے جو میری بات نہ سمجھ سکا۔ اے جنت کے محتاج! ایسی جنت تو ایک قید خانہ ہے جس میں قرب ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل نہ ہو اور ایسی دوزخ بھی اس کے لئے تو ایک باغ ہے جس کا مُونِس و غم گسار اللہ تعالیٰ ہو۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام جنت میں تھے تو کھاتے پیتے اور مسرور تھے۔ جب درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا تو وہی جنّت آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے قید بن گئی۔ اورحضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے جب اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کا راز محفوظ رکھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنا مقرب وپسندیدہ بنا لیا اور جب آپ علیہ السلام کو آگ میں داخل کیا گیا تو وہ آپ علیہ السلام پر سلامتی اور ٹھنڈک بن گئی۔''
سیِّدُناحبیب نجار علیہ رحمۃ اللہ الغفارکی ایمان افروزحکایت:
    حضرت سیِّدُناحبیب نجارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار مُتّقی پرہیزگار، اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں سے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رات بھر عبادت کرتے اور دن بھر روزہ رکھتے اور افطار کے لئے جو کھاناحاضرکیا جاتاوہ دوسروں کو دے دیتے اور خود ساری رات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بھوکے ہی قیام میں گزار دیتے۔جب صبح قریب ہونے کو آتی توعاجزی وانکساری بھرے الفاظ میں عرض کرتے:''میں غفلت کے سمندروں میں ڈوبارہااور گناہ کے میدانوں میں چلتا رہا۔اپنی رسوائی کے دامن کو کھینچتا رہا۔ بدبختی کے جنگلوں میں حیران و سرگرداں بھٹکتارہا۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں،میں تیرے در کے علاوہ کوئی در نہیں
Flag Counter