Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
473 - 649
جُنبش سے اُٹھا یا اورارشاد فرمایا:'' اے آمنہ!تجھے بشارت ہو کہ تیرے شِکَمِ اطہر میں پرورش پانے والی ذات تمام جہانوں سے بہتر ہے، جب ان کی ولادت ہوجائے تو ان کا نام محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم رکھنا اور اپنے اس معاملے پر کسی کو آگاہ نہ کرنا۔''
 (البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر،کتاب الشمائل ،باب مااعطی رسول اللہ  ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۴،ص۷۲0)
ولادتِ مبارک اور عجائبات ولادت:
    حضرت سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:'' جب تک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے شکم میں تشریف فرما رہے میں نے کبھی درد والم،بوجھ یا پیٹ میں مروڑ محسوس نہ کیا۔ حمل ٹھہرنے کے کامل نو (9) ماہ بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ولادت باسعادت ہو گئی۔ جب وقتِ ولادت قریب آیا تو عام عورتوں کی طرح مجھ پر بھی گھبراہٹ طاری ہوگئی۔میرے خاندان والے میری اس کیفیّت سے واقف نہ تھے، میں گھر میں تنہا تھی۔ حضرت سیِّدُنا عبدالمطلب طوافِ خانۂ  کعبہ
زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً
میں مشغول تھے۔ لہٰذا میں نے دستِ طلب اس ذات کے سامنے دراز کر دیا جس پر کوئی پوشیدہ چیز بھی مخفی نہیں۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میری غم گُسار بہن فرعون کی بیوی حضرت سیِّدَتُناآسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لے آئیں۔ پھر میں نے ایک نور دیکھا جس سے سارا مکان روشن ہو گیا۔ یہ حضرت سیِّدَتُنامریم بنت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔ پھر میں نے چودہویں کے چاند جیسے چمکتے دمکتے چہرے دیکھے، یہ حوروں کا قافلہ تھا۔ جب دردِ زِہ کی تکلیف زیادہ ہوئی تو میں نے ان خواتین سے ٹیک لگا لی۔پھر عالم ُ الغیب و الشہادہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ پرولادت آسان فرما دی اورمیرے بطن سے حبیب ِ خدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے آئے اور عالَم یہ تھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے ہاتھوں پرسہارادئیے ہوئے ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ حضرت سیِّدَتُناآسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر شفقت کرنے لگیں، حضرت سیِّدَتُنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی جلدی جلدی حاضر ہو گئیں۔ حوروں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین کے بوسے لئے۔ 

    حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام بھی کاشانۂ اقدس میں حاضر ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنامیکائیل علیہ السلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیا، حضرت سیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام بھی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گئے۔ پھر فرشتے آقائے نامدار، مدینے کے تاجدار، حبیبِ پروردْگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو نگاہوں سے اوجھل لے گئے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری کائنات کی سیر کرانے لگے، تمام جنّتی نہروں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غسل فرمانے سے فیض یاب کیا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا اسمِ گرامی جنّتی درختوں کے پتّوں پر رقم کر دیا۔ پھر لمحہ بھرمیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو واپس بھی لے آئے۔ اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ساری کائنات پر فضیلت دی گئی۔ حضرت سیِّدَتُنا آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سرمہ لگانا چاہاتو دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی چَشمانِ کرم میں اچھی طرح سرمہ لگا ہوا تھا ۔حضرت سیِّدَتُنا
Flag Counter