| حکایتیں اور نصیحتیں |
ترجمہ:حضرت سیِّدُنا محمد ِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مبارک نور ہمیشہ طیب وطاہر اور برتر وبالا لوگوں میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پاک وصاف اور معظم ومکرم حالت میں حضرت سیِّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچا۔
نو رِمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی منتقلی پر جشن کا سماں:
جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو رفیعُ الشان صُلبوں سے بلند رُتبہ سیِّدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بطنِ اَطہَر کی طرف منتقل فرمایاتواس منتقلی کے ساتھ ہی بڑی بڑی نشانیاں ظاہرہونے لگیں۔ ساری مخلوق ایک دوسرے کو بشارتیں دینے لگی، زمین و آسمان میں اعلان کر دیا گیا: ''اے عرش! وقار و سنجیدگی کا نقاب اوڑھ لے۔ اے کرسی! فخر کی زرہ پہن لے۔ اے سِدرۃُ المنتہیٰ! خوشی سے جھوم جا۔ اے ہیبت اور رعب و دبدبہ کے ا نوار! تم بھی خوب روشن ہو جاؤ۔ اے جنّت!خوب آراستہ پیراستہ ہو جا۔اے محلات کی حُورو ! تم بھی بلندی سے دیکھو۔ اے رضوان (باغبانِ جنت) ! جنت کے دروازے کھو ل دے اور حُور و غِلماں کو سامانِ زینت سے آراستہ پیراستہ کر کے کائنات کو خوشبوؤں سے معطّر کر دے۔ اے مالک(داروغۂ جہنم)! جہنم کے دروازے بند کر دے۔ کیونکہ آج کی رات میری قدرت کے خزانوں میں چھپاہوا نور اور راز عبداللہ سے جدا ہو کر آمنہ کے بطن میں منتقل ہونے والا ہے اور جس گھڑی یہ نور منتقل ہو گا اسی لمحے میں اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مکمل صورت دے دوں گااوریہ لوگوں کے سامنے انسانِ کامل ظاہر ہو گا۔''
ہرچوپایہ بولنے لگا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یکم رجبُ المرجب شب ِ جمعہ نورِ محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی منتقلی کا اعلان فرمایا۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا امام واقدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک یہ جمادی الآخر کی پندرہویں رات تھی۔ نورِمحمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی منتقلی کی رات ہر گھر اور مکان میں نور داخل ہوگیا اور ہر چوپایہ محو ِکلام ہو گیا۔ حضرت سیِّدُناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدَتُنا آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے رسولِ پاک، صاحب ِ لَولاک، سیَّاح افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے حاملہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس رات قریش کے ہرچوپائے نے(بزبانِ فصیح )کلام کرتے ہوئے کہا: ''رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنی والدۂ ماجدہ کے شکمِ اطہر میں جلوہ فرما ہو چکے ہیں، ربّ ِکعبہ کی قسم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دُنیا کے لئے امان اور اہلِ دُنیا کے چراغ ہیں۔''
(رسائلِ میلادِ مصطفٰی، رسالۃُ مولدِ النّبی لابن حجر مکّی علیہ رحمۃ اللہ القوی، ص۱۹)
حضرت سیِّدَتُناآمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:''جب حمل کوچھ ماہ ہوئے توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والد ِ محترم میرے سرتاج حضرت سیِّدُنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جہانِ فانی سے کُوچ فرما گئے۔ اور کسی نے خواب میں آ کر مجھے پاؤں کی