یہ ایسا عظیم دن ہے کہ اس میں نیکیوں کااجر دُ گنا کر دیا جاتا ہے اور ہر گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ اسی دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم صفی اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی توبہ قبول فرمائی۔ اسی روزحضرت سیِّدُنانوح نجی اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ و السلام اور آپ علیہ السلام کے قلیل زادِ راہ والے رفقاء کو کشتی میں نجات عطافرمائی۔ اسی دن حضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ علٰی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نارِ نمرود سے نجات عطافرمائی ۔ اسی دن حضرت سیِّدُناایوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو مصیبت سے چھٹکارا عطا فرمایا۔اسی روزحضرت سیِّدُنایعقوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے طویل دکھ درد کے بعدحضرت سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کوان سے ملا یا۔اسی دن حضرت سیِّدُنایونس علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کومچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا۔ اسی دن بنی اسرائیل کے لئے دریا میں راستے بنائے گئے تاکہ وہ اسے پار کرکے فرعون سے نجات پائیں۔ اسی دن حضرت سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی لغزش معاف ہوئی۔اسی دن حضرت سیِّدُناسلیمان علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو سلطنتِ عظیم عطا کی گئی۔ اسی دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کوہم کلامی کا شرف بخشا اور حضرت سیِّدُناعیسیٰ روح اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو آسمان پراُٹھا لیا۔اسی دن حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام رحمتِ باری تعالیٰ لے کر نازل ہوئے۔اور یہی وہ عظیم دن ہے جس میں حضور سیِّدُ المرسلین، جنابِ رحمۃٌ للعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرمانے کی خوشخبری سنائی گئی۔
اس دن کی عظمت و شرافت کے لئے تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس نے اس دن کا روزہ رکھاگویا اس نے ساری زندگی روزہ رکھا اور جس نے عاشوراء کی رات قیام کیا تو وہ بڑا اجراور بڑی عطا پاکر کامیاب ہوا اورجس نے اس دن کسی بے لباس کوکپڑے پہنائے یا بھلائی کاکوئی کام کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو درد ناک عذاب سے محفوظ فرما دے گا۔ جس نے اس دن کسی یتیم کی حاجت پوری کی یا کسی بھوکے کو کھانا کھلایایاکسی کوپانی کا ایک گھونٹ پلایا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو جنت کے دسترخوان پر کھاناکھلائے گا اور مہرلگی ہوئی شرابِ طہوراورسلسبیل(یعنی جنتی چشمے)کا پانی پلائے گا۔ جس نے اس دِن صدقہ کیا بروزِ قیامت وہ اپنے صدقے کے گھنے سائے میں ہوگا۔جس نے اس دن اپنے گھر والوں پر خرچ میں فراخی کی اس کے رزق میں کشادگی کر دی جائے گی اور اس کی سیرت وصورت کو اچھا کردیا جائے گا۔پس اس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوب پاکی بولو اور کلمہ طیبہ شریف کی کثرت کرو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جلدی جلدی توبہ کرلو اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے طویل سفر کے لئے زادِ راہ تیار کر لو۔ اس دن کی فضیلت پر انعامات واکرامات کی روایات اس کثرت سے آئی ہیں کہ ان کے اظہار سے ہر زبان قاصر ہے۔