ترجمۂ کنزالایمان:تو ہم نے اسے کر دیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں، ہم یونہی آیتیں مفصّل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لئے۔(۱)(پ11،یونس:24)
دنیا کی لذتوں میں مشغول رہنے والو! تمہارا ربِّ اکبر عَزَّوَجَلَّ واضح طور پر فرما رہاہے:
(3) اِنَّآ اَنْذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا
ترجمۂ کنزالایمان:ہم تمہیں ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا۔(پ30،النبأ:40)
اس دن انہیں کس قدر رسوائی ہوگی جب اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں ان کی بداعمالیوں پر خبردار فرمائے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔
اے میرے اسلامی بھائیو! گناہوں کے بھیانک انجام پر غور کرو۔کیسے لذتیں ختم ہو جائیں گی اور خامیاں باقی رہ جائیں گی۔ میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتاہوں کہ گنا ہ کی طلب سے بچو کہ یہ بہت بری طلب ہے اور اس کے اثرات چہروں اور دلوں پر کتنے برے ہیں۔ سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! وہ بندہ کتنا خوش بخت ہے جس نے اپنے دل کوصاف ستھرا کر لیا، اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے پاک کرلیا اور اپنے ظاہر وباطن کواللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے خالص کر لیا۔
خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب آنکھ نکال دی:
منقول ہے، ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم علٰی نبیناوعلیہما الصلٰوۃ والسلام شہرسے باہر تشریف لائے تاکہ لوگوں
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''یہ ان لوگوں کے حال کی ایک تمثیل ہے جو دُنیا کے شیفتہ(یعنی دلدادہ) ہیں اور آخرت کی انہیں کچھ پرواہ نہیں۔ اس میں بہت دل پذیر طریقہ پر خاطر گزیں کیا گیا ہے کہ دُنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے، اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس غایت پر پہنچتا ہے جہاں اس کو حصولِ مراد کا اطمینان ہو اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو، اچانک اس کو موت پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ آتا ہے اور اس کا تمام سرو سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں، غارت ہوجاتا ہے۔تاکہ وہ نفع حاصل کریں اور ظلماتِ شکوک و اوہام سے نجات پائیں اور دنیائے ناپائیدار کی بے ثباتی سے باخبر ہوں۔''