Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
436 - 649
مؤنث۔ لیکن اے ابّا جان! شیر کو جاکر کہہ دیجئے کہ میری بیٹی فاطمہ تجھے سلام کہتی ہے اور اس ذات کی قسم دیتی ہے جسے نہ نیند آتی ہے ، نہ اُونگھ۔ تُو ہمارے راستے سے ہٹ جا۔'' حضرت سیِّدُنا امام اصمعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ابھی اس کی گفتگو ختم نہ ہوئی تھی کہ میں نے دیکھا کہ شیر سامنے سے جا رہا تھا۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ صالحین کی علامتیں اور عارفین کی نشانیاں ہیں۔
آبِ زمزم ستّو، دودھ اور شہد بن گیا:
    حضرت سیِّدُناسعید بن اسحاق بصری علیہ حمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:''میں سحری کے وقت آب ِ زمزم شریف کے کنوئیں کے پاس تھاکہ اچانک ایک بزرگ تشریف لائے، ڈول بھرا اور پانی پی کر چل دئیے۔ میں نے ان کا جوٹھا پانی پیا تو وہ میٹھے سَتُّو کی طرح تھا۔ ایسا شربت میں نے پہلے کبھی نہ پیا تھا۔جب میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ جا چکے تھے۔ میں دوسرے دن دوبارہ زمزم کے کنوئیں کے پاس آگیا۔ وہ بزرگ پھر تشریف لائے اور ڈول بھر کر پانی نوش فرمایا۔اب میں نے ان کا بچا ہوا پانی پیا تو وہ خوشبودار میٹھے شہد کی طرح تھا۔ ایسا لذیذ مشروب میں نے پہلے کبھی نہ چکھا تھا۔میں دوبارہ متوجہ ہوا تو وہ بزرگ تشریف لے جا چکے تھے۔ تیسرے روز میں سحری کے وقت زمزم شریف کے کنوئیں پر موجود تھا کہ وہ بزرگ پھر تشریف لائے اورڈول بھر کرپانی پیا۔ میں نے ان کا جوٹھا پانی پیا تو میٹھے دودھ کی طرح تھا۔ ایسا لذیذ دودھ میں نے کبھی نہ پیا تھا۔میں نے عرض کی،'' اس گھر کی حرمت کی قسم!یہ بتائیے! آپ کون ہیں؟'' تو انہوں نے فرمایا: ''کیا میری موت تک اسے ظاہر تو نہ کرو گے؟'' میں نے عرض کی، ''جی ہاں۔''تو انہوں نے بتایا:''میں سفیان ثوری ہوں۔''
تین چیزوں کے سبب بخشش ہوگئی:
    حضرت سیِّدُنا ابویوسف غسلونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''ایک دن میں شام کی ایک مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہَم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم تشریف لائے اور مجھے فرمایا:''اے غسلونی! آج میں نے ایک عجیب بات دیکھی۔'' میں نے پوچھا،''وہ کیا ہے؟''فرمانے لگے:''میں قبرستان میں ایک قبر کے پاس کھڑا تھا کہ اچانک ایک سفید رِیش بوڑھے کی قبر شق ہوئی۔ اس نے مجھ سے کہا: ''اے ابراہیم ! مجھ سے کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ لوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے آپ کے لئے زندہ کیا ہے۔'' تو میں نے پوچھا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' اس نے جواب دیا:''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور گناہوں کا بوجھ لئے حاضر ہوا لیکن اس نے مجھ سے فرمایا:''میں نے تجھے تین چیزوں کے سبب بخش دیا:(۱)۔۔۔۔۔۔تو میرے پاس اس حال میں آیا کہ تجھے اس سے محبت ہے جو میرا محبوب ہے(۲)۔۔۔۔۔۔ تیرے سینے میں ذرہ برابر حرام شراب نہیں اور(۳)۔۔۔۔۔۔ تیرے بال سفید
Flag Counter