فرمایا؟ کیا تو نے سوال کیا اور دعا کی تو اس نے تیرے سوال کا جواب نہیں دیا اور تیری دعا قبول نہیں کی؟ جب تو نے مصیبتوں میں مدد مانگی تو کیا اس نے تیری مدد نہیں فرمائی اور تجھے نجات عطا نہیں کی؟اور جب تو نے نافرمانی کی تو کیا اس نے اپنی بردباری سے تیری پردہ پوشی نہیں فرمائی اور تجھے اپنی رحمت سے نہیں ڈھانپا؟ کیا تو نے کئی مرتبہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے غضب کو دعوت نہیں دی لیکن پھر بھی اس نے تجھے راضی رکھا؟ تو کیا تجھے زیب دیتاہے کہ تو گناہوں اور نافرمانیوں سے اس کا مقابلہ کرے؟ اس نے تجھ پر اپنا رزق کشادہ کیا اور تو اس کی نافرمانی میں اضافہ کرتا ہے۔ تو لوگوں سے تو چھپ جاتاہے مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے نہ چھپ سکے گا۔ وہ تجھے دیکھ رہا ہے، کب تک تو گمراہی اور خواہشات کے سمندر میں غرق رہے گا؟ اگر تو نجات چاہتا ہے تو ندامت کی کشتی پر سوار ہو جا اور اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے فائدہ اٹھا۔ اپنے آپ کو اخلاص کے ساحل پر ڈال دے وہ تجھے نجات اور خلاصی عطا فرمائے گا۔
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندوں پر خاص نظرِ کرم فرمائی۔ ان کے دلوں کو اپنی توحید کا گھر بنایا اور ا پنی وحدانیت کا اقرار کرنے والا بنایا اور ان کے سینوں کو اپنے ذکر اوراپنی بزرگی کی جگہ بنایا۔ جب کبھی اُفقِ توفیق سے کوئی ستارہ طلوع ہوتا ہے یا تحقیق کی بجلیوں سے کوئی نور چمکتا ہے تو ان کے دل محبوب کے ذکر سے کشادہ اور شرابِ محبت سے سیراب ہو کر خوش ہوجاتے ہیں اور ان کے سامنے سے پوشیدہ رازوں سے پردے اٹھا دئیے جاتے ہیں ۔
حضرت سیِّدُنا ابوزیدعلیہ رحمۃ اللہ الواحد فرماتے ہیں: ''میں جب بھی اپنے نفس کو عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی طرف راغب کرتا تو وہ رونے لگتا لیکن میں اسے مسلسل رغبت دلاتا رہا یہاں تک کہ وہ اس پرخوش ہوگیا۔ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت پا لیتا ہے ہر شئے اس کے تابع ہو جاتی ہے ۔''