Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
424 - 649
الاوّل سن 179 ہجری میں ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہفتے کے دن بیمار ہوئے اوراسی دن اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نو ّے (90) برس کی عمر پائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت فرمائی کہ مجھے میرے اپنے کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے اور جنازہ گاہ میں نمازِ جنازہ اداکی جائے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازِ جنازہ کثیر لوگوں نے ادا کی جن میں حضرت سیِّدُنا ابن عیاش، حضرت سیِّدُنا ہاشم، حضرت سیِّدُناابن کنانہ ،حضرت سیِّدُنا شعبہ بن داؤد ،آپ کے کاتب حضرت سیِّدُنا حبیب اور ان کے بیٹے رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسی شخصیات بھی شامل تھیں۔ کئی لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں بھی اترے۔''
(التمھید لابن عبد البر،مقدمۃ المصنف،باب ذکر عیون من اخبار مالک وذکر فضل موطئہ، ج۱، ص۶۷) 

(سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۱۸0، مالک الامام، وفاۃ مالک، ج۷، ص۴۳۵)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال پر اہلِ عراق کا صدمہ:
    جب حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کی خبر عراق پہنچی تو گویا عراق کی سرزمین لرْزنے لگی۔وہاں کے لوگوں کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر بہت صدمہ پہنچا۔ ایک آدمی نے حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: ''اے ابو محمد !ایک شخص کی خواہش ہے کہ وہ کسی ایسے عالم سے مسئلہ دریافت کرے جواس کے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیا ن دلیل ہو۔''تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''ایسے عالم تو حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں کہ جنہیں آدمی اپنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان دلیل بنا سکتا ہے۔''لیکن جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو بتایا گیاکہ وہ تو وصال فرما چکے ہیں تو بصد حسرت وافسوس کہنے لگے:''ہا ئے! اچھے لوگ دنیا سے چلے گئے۔''
آدمی کا نسب ہی اس کا مکان ہے:
    حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دُنیا سے بہت زیادہ بے رغبت رہتے اور امورِ آخرت میں غور وفکرکرتے رہتے تھے۔ حصولِ علم میں بہت کوشاں رہتے اورمؤمنین کی خیر خواہی کرتے تھے۔'' خلیفۃ المسلمین مہدی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ''کیا آپ کا کوئی مکان ہے؟''تو آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا: ''نہیں۔ لیکن میں آپ کو ایک حدیث ِ پاک سناتا ہوں، میں نے حضرت سیِّدُنا ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا: '' آدمی کا نسب ہی اس کا مکان ہے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم، الباب الثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱، ص۴۷) 

(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب فی مجلسہ وطیبہ۔۔۔۔۔۔الخ، ج۱،ص۳0)
Flag Counter