| حکایتیں اور نصیحتیں |
منقول ہے کہ ایک جنّ نے ان الفاظ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مرثیہ کہا (یعنی اظہارِ غم کے اشعار کہے):
؎ عَنَّا جَزَاکَ مَلِیْکُ النَّاسِ صَالِحَۃً فِیْ جَنَّۃِ الْخُلْدِ وَالْفِرْدَوسِ یَا عُمَرُ! أَنْتَ الَّذِیْ لَا نَرٰی عَدْلاً نَسُرُّ بِہٖ مِنْ بَعْدِہٖ مَا جَرٰی شَمْسٌ وَلَا قَمَرُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ!لوگوں کاعظیم بادشاہ عَزَّوَجَلَّ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہماری طرف سے جنت الخلداور جنت الفردوس میں بہترین جزاء عطافرمائے۔ (آمین)
(۲)۔۔۔۔۔۔ جب تک سورج چاند طلوع ہوتے رہیں گے، ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد ایسا عادل خلیفہ کبھی نہ پائیں گے جسے ہم فریاد کر سکیں۔(اخبار مکۃ للفاکھی،ذکر السمر والحدیث فی المسجد الحرام، الحدیث۱۳۳۹،ج۲،ص۱۵۱)
جب حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال فرمایا تو مشہور عربی شاعر جریر نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مرثیہ ان الفاظ میں لکھا:
؎ تَنْعٰیالنُّعَاۃُ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَنا مُفَضَّلاً حَجَّ بَیْتِ اللہِ وَاِعْتَمَرَا حَمَلَتْ أَمْرًا عَظِیْمًا فَاسْتَطَعْتُ لَہٗ وَسِرْتُ فِیْہٖ بِاَمْرِ اللہِ مُؤْتَمِرَا
ترجمہ: (۱)۔۔۔۔۔۔خبر دینے والوں نے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کی خبر کوحج وعمرہ کے ساتھ ملا دیا۔ انہوں نے ایک بہت بڑی بات کو برداشت کیا اور میں نے اس اَلَم ناک خبر کو محض اس وجہ سے برداشت کر لیا کہ میں احکامِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی بجاآوری میں مگن تھا۔
(حلیۃ الاولیاء، عمر بن عبد العزیز، الحدیث۷۳۷۴، ج۵،ص ۳۵۵۔بتغیرٍ)
ائمۂ ہُدٰی کے ساتھ ٹھکانہ:
مسلمہ بن عبدالملک کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:'' اے امیر المؤمنین! کیسے حالات پیش آئے ؟''ارشاد فرمایا: ''اے مسلمہ! اب میں فارغ ہوں، بخدا میں نے دُنیا میں کبھی آرام نہ کیا۔'' میں نے عرض کی: ''اے امیر المؤمنین! آپ اس وقت کہاں ہیں؟''جواب دیا: ''میں ہدایت یافتہ اماموں کے ساتھ جنتِ عدن میں ہوں۔''
(تاریخ دمشق ،الرقم۵۲۴۲، عمر بن عبد العزیز، ج ۴۵،ص۲۶۲)
سبزپرچہ:
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رات کے وقت غیر آباد مساجد میں تشریف لے جاتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نمازپڑھتے رہتے۔ جب سحری کا وقت ہوتا توپیشانی زمین پر رکھ دیتے اور مِٹی پر اپنے رخسارملنے