| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا عمر بن مہاجر علیہ رحمۃاللہ الناصر فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حکم فرمایا کہ جب مجھے حق سے ہٹتاپاؤ تو اپنے ہاتھ میرے گریبان میں ڈال کر جھڑکتے ہوئے کہنا، ''اے عمر! کیا کر رہے ہو؟''
(حلیۃ الاولیاء،عمر بن عبد العزیز،الحدیث۷۲۷۲ ، ج۵،ص ۳۲۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انتہائی تعجب کی بات ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامل ہونے کے باوجود اس قدر خوف رکھتے تھے او ر تم ناقص ہونے کے باوجود کتنے بے خوف ہو؟دُنیا آخرت کا آئینہ ہے، جو دنیا میں کرو گے آخرت میں دیکھو گے، آج عمل کروگے کل دیکھو گے، اگرتم عقل مند ہو تو اپنے برے اعمال پر رویا کرو اور اگر غفلت کی نیند میں ہو تو عنقریب نیند کی یہ لذت تم سے دُورچلی جائے گی۔
اے میرے اسلامی بھائیو! دُنیاجب سَلَف صالحین کے پاس آتی ہے تو وہ اسے آخرت کے لئے آگے بھیج دیتے ہیں۔ ہمارا اُن سے کیا موازنہ ہے؟ ہم میں سے کتنے شب بیداری کرتے اور کتنے خوابِ غفلت میں رات گزار دیتے ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتقویٰ:
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س یَمَن کا (مالِ)خراج آتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُسے بیت المال میں جمع کرا دیتے اور خود تاریکی میں رات گزارتے اور ارشاد فرمایا کرتے، ''جب میں عوام کے معاملات نِپٹانے کے لئے بیدار رہتا ہوں تو بیت المال کا چراغ جلاتا ہوں اور جب اپنے کام کے لئے جاگتاہوں تو ذاتی مال سے چراغ جلاتا ہوں۔''
(الطبقات الکبری لابن سعد،الرقم۹۹۵عمر بن عبد العزیز،ج۵،ص۳۱۱۔۳۱۲۔بتغیرٍ )
منقول ہے کہ ایک مرتبہ یمن کا خراج آیا۔جس میں بارہ( 12) خچر وں پر لدا ہوا عَنبر (عَم ْ۔ بَر) بھی تھا۔پہلے مال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیاگیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال میں جمع کرانے کا حکم دیا پھر عنبر لانے کا حکم دیا۔ جب عنبر لایاگیاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ناک بند کر لی اور حکم دیاکہ اس کو بھی بیت المال میں جمع کر دو۔ عرض کی گئی :''حضور! یہ عنبر ہے،یہ خوشبو سونگھنے سے کم نہیں ہوتا۔'' تو ارشاد فرمایا: ''اس کی خوشبو ہی سے نفع اٹھایا جاتاہے۔''
(حلیۃ الاولیاء،عمربن عبد العزیز، الحدیث۷۳۹۸، ج۵، ص۳۶0، بتغیرٍ ۔ تاریخ دمشق لابن عساکر،الرقم۵۲۴۲، عمر بن عبد العزیز، ج۴۵،ص۲۱۷، بتغیرٍ۔ سیر اعلام النبلاء، الرقم۶۶۲، عمر بن عبد العزیز،ج۵،ص۵۹۲۔بتغیرٍ)
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک چمک دار موتی بھیجا اور عرض کی کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس قسم کا ایک اور موتی مجھے بھیج دیں تاکہ میں ان کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال سکوں۔ تو