Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
345 - 649
بیان 34:     تذکرۂ معروف کَرْخِی علیہ رحمۃاللہ الغنی

حمد ِ باری تعالیٰ:
    سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جو رء ُوف ،رحیم ،کریم اور انتہائی مہربان ہے۔بھلائی کے بدلے بھلائی(یعنی جنت ) عطافرمانے والا ۔وہ ایساواحدویکتا ہے کہ وحدت اس پراثراندازنہیں ہوتی اورنہ ہی بندوں سے انتہائی محبت پرفخرہے ۔وہ اپنی بادشاہت میں وزیر ، مشیراور قریبی سے بے نیازہے۔ ستاروں سے اوپراورزمین کی سرحدوں سے آگے جوکچھ ہے اسی کے علم میں ہے۔ پردۂ غیب اس پرکھلاہواہے ۔اس نے اپنی شان کے لائق عرش پر استواء فرمایا جو حرکت ،جلوس اورٹھہرنے سے پاک ہے ۔ مَیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتا ہوں کہ اس نے خوفناک چیزوں کودورفرمادیا ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،ایسی گواہی جیسی حضورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے سچائی کی انتہاکوپہنچی ہوئی اپنی مبارک زبان سے دی۔کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کی زبانِ اطہرکو غیرِ حق اوربے جا کی طرف جانے سے روک دیا۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک ہمارے سردار حضرت سیِّدُنا محمدمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے معزز لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے ۔ اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے اس جنت کی خوشخبری دی جس کے( پھلوں کے)خوشے جھکے ہوئے ہیں اور اس آگ سے ڈرایا جو سخت بھڑکتی اور شعلے مارتی ہے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے اُون کا لباس پہنااورپیوند لگے نعلین مبارک استعمال فرمائے ۔حالانکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بلند و بالا مرتبے پرفائزاورتمام خوبیوں سے موصوف ہیں ۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس نبئ کریم ، ہمارے سردار حضرت محمدمصطفی،احمدمجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم پر رحمت نازل فرما اور ان کے آل و اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر جو سردارانِ زمانہ ہیں۔اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم پر اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے آل و اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر سلامتی بھیج جب تک باجماعت نمازوں میں قطاردرقطار صفیں قائم ہوتی رہیں۔
ابتدائی حالات:
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا نامِ نامی، اسمِ گرامی معروف علیہ رحمۃ اللہ الرء ُوف اورکُنْیَت ابو محفوظ ہے، والد ِ ماجد کا نام مبارَک فیروز ہے۔( بعض نے ''فَیْرُزَان'' لکھا ہے) بغداد کے علاقے کرخ کی نسبت سے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کرخی کہلاتے ہیں۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے والدین عیسائی تھے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بھلائی کی صفت سے متصف تھے، بچپن ہی سے مسلمان بچوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھا کرتے اور والدین کو دعوتِ اسلام پیش کرتے رہتے لیکن وہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو ڈانٹتے ہوئے اُلَجھ پڑتے۔ ایک دن انہوں نے
Flag Counter